اسکاٹش لیبر پارٹی کے سربراہ انس سرور، اسکاٹش جسٹس سیکرٹری حمزہ یوسف، اسکاٹش نیشنل پارٹی کی خاتون کوکب اسٹوراٹ کے علاوہ کنزرویٹو پارٹی کی سکھ خاتون پام گوسل بھی منتخب
گلاسگو (طاہر انعام شیخ) سکاٹش پارلیمنٹ کے الیکشن میں پہلی بار تین پاکستان اور ایک انڈین نژاد کامیاب ہو گئے ہیں، تفصیلات کے مطابق اسکاٹش پارلیمنٹ کے الیکشن میں اسکاٹش لیبر پارٹی کے سربراہ انس سرور اور اسکاٹش جسٹس سیکرٹری حمزہ یوسف کے علاوہ ایک مزید پاکستان نژاد خاتون کوکب اسٹوراٹ بھی اسکاٹش نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوگئی ہیں اور یوں پہلی بار اسکاٹش پارلیمنٹ میں پاکستان نژاد افراد کی تعداد تین ہوگئی ہے، کوکب اسٹوراٹ پہلی رنگ دار خاتون ہیں جنہوں نے اسکاٹش پارلیمنٹ کی ممبر بن کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، ان کے علاوہ کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے ویسٹ آف اسکاٹ لینڈ کی ریجنل لسٹ سے ایک سکھ خاتون پام گوسل بھی منتخب ہوگئی ہیں۔ اسکاٹش پارلیمنٹ کے تفصیلی اور مکمل نتائج کا بھی اعلان کردیا گیا ہے جس کے مطابق اسکاٹش نیشنل پارٹی نے129کے ایوان میں64نشستیں لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی، کنزرویٹو کو31، لیبر کو22، گرین پارٹی کو8 جب کہ لبرل ڈیمو کریٹ کو4نشستیں ملی ہیں، اسکاٹش نیشنل پارٹی کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت سے ایک نشست کم یعنی64سیٹیں ملی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اقلیتی حکومت قائم کرے گی۔ بصورت دیگر وہ اسکاٹش گرین پارٹی کے ساتھ مل کر بھی مخلوط حکومت بناسکتی ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نکولا سٹرجن کا کہنا ہے کہ ان کی تاریخی کامیابی اس بات کی غماز ہے کہ عوام نے ان کو آزادی کے ایک نئے ریفرنڈم کا مینڈیٹ دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم اس بات سے مکمل انکار کرتے آئے ہیں کہ وہ نکولا سٹرجن کو آزادی کے دوسرے ریفرنڈم کی اجازت دیں گے، اس سلسلہ میں مستقبل میں ایک بڑی سیاسی جنگ جاری رہنے کا امکان ہے۔