خیال عام – عامر عام کا کالم

خیالِ عام بدل کے رکھ دیں گے ، انداز ہم بزم کے

واری اس جذبے ، صدقے اس عزم کے

میرا اپنا دوست ہی مرا دشمن بنا بیٹھا ہے

آؤ ختم کریں سائے ذہن سے اس وہم کے

یہ ایک لمحاتی دنیا ہےچند روزہ قیام گاہ ہےجس میں ہم امتحان دینے آئے ہیںآخرت کا ایک دن پچاس ہزار سال کا ہےدنیا میں اگر کوئی شخص سو سال زندہ رہتا ہے تو اس اعتبار سے اسکی دنیا کی زندگی دو یا ڈھائی منٹ کی ہےمدعا کیا ہے اور میں کیا کہنا چاہتا ہوںانسان جب دنیا میں آتا ہے تو مختلف لوگوں سے اس کا رابطہ ہوتا ہےجن لوگوں کیساتھ اسکا مزاج مل جاتا ہے اس سے اپنے رابطے بڑھا دیتا ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ اسکو وہ دوست بنا لیتا ہےجس سے اسکی طبیعت نہیں ملتی اس سے اجتناب کرلیتا ہے اور اس سے دوری کو بہتر گردانتا ہےبسا اوقات وہ کسی سے نفرت یا دشمنی کا رشتہ بھی بنا لیتا ہےمیں بات کرنا چاہوں گا ان لوگوں کے بارے میں جواپنی طبیعت حالات اور ماحول کے تابع ہوکر مل بیٹھتے ہیں ایک دوسرے سے محبت اور اکرام سے ملتے ہیں محبت و احترام کے رشتے میں بندھے ہونے کی وجہ سے معاشرے کے گردونواح میں رہنے والے افراد ان کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان پہ رشک کرتے ہیں یہ محبت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر مل جل کر کام کرنے کا عزم کرتے ہیں اور پھر اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑتےاپنی جان اپنا مال اور اپنا وقت وہ سماج کو بہتر بنانے کی کاروائیوں میں صرف کرنا شروع کر دیتے ہیںجلد یا بدیر ایک دن انکا احساس اس بات پر مضبوطی سے قائل ہوجاتا ہے کہ اب چونکہ ان میں بوجوہ اختلافِ مسلسل وہ محبت نہیں رہی لہذا انکو اپنے مشترکہ پراجیکٹ سے کام کی حد تک علیحدگی اختیار کر لینی چائییے کیونکہ کچھ باتوں کو طے کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں دنیا متوجہ ہوکر جب انکے کام کو سراہنے لگتی ہے تو چونکہ انسانی مزاج میں حسد کو بھی اچھا خاصا دخل ہےتو کچھ لوگوں کو یہ بات بالکل پسند نہیں آتی لہذا وہ درونِ خانہ اختلاف کرتے ہیںجس حسد اور بغض کے جذبے کے تحت وہ یہ کام کرتے ہیں وہ جذبہ ابھی میرے موضوع کا حصہ نہیں وہ پھر کبھی سہی جب لوگ ایک دوسرے سے بڑے اچھے تعلقات میں ہوتے ہیں تو گردونواح میں بسنے والے لوگوں کو اپنی نجی گفتگو کا حصہ بنا لیتے ہیں یہ ایک عمومی مزاج ہے کوئی فرشتہ صفت ہی ہوسکتا ہے جو اس علت کا عادی نہ ہولہذا جب لوگوں کے درمیان تعلق کمزور پڑ جاتا ہے یا بالکل ختم ہوجاتا ہے تو لوگ اس تاک میں رہتے ہیں کہ اب سننے کو کئی کہانیاں ملیں گی جس سے وہ محظوظ ہو سکیں گےمیرا خیال ہے آپس میں میں کی گئی گفتگو ایک امانت ہوتی ہے جسے تعلق ختم ہونے پر افشا کرنا بددیانتی کے زمرے میں آتا ہےخصوصا ایسی گفتگو جس سے انتشار کا خدشہ ہو اسکو دفن کر دینا ہی عین عبادت ہےفساد یا انتشار پیدا کرنا قتل سے بڑا گناہ ہےأپسی راہیں جدا کرنے والے افراد کو اخلاقی روایات کا خیال رکھنا چائییے مجمع ہو یا تنہائی اپنے چھوڑ جانے والے حتی کہ روٹھ جانے والے یا ناراض ہوجانے والے سابقہ قریبی ساتھی کے بارے میں گفتگو کرتے وقت احتیاط سے کام لینا چائییے اور کوشش کرنی چائیے کہ کم سے کم اختلافی گفتگو کی جائے وہ بھی اگر کسی جگہ واقعی اسکی ضرورت ہے اور آپکو اپنا مدعا بیان کرنے کی حاجت درپیش ہے کجا کہ ہر محفل اور مجلس میں اس سابقہ تعلق کا مذاق بنا کے رکھ دیا جائے اور اسکی زرا برابر پرواہ نہ کرتے ہوئے سچ ااور جھوٹ کی تمیز بھلا دی جائےاور جو دل میں آئے بلاتکان فراٹےسےبولا جائے میرے خیال میں دوسروں کے سامنےفریق مخالف پر وہی الزام دھرنا چائییے جو آپ اسکے سامنے بھی دھر سکتے ہیں اسی اصول کے بابت بتانا چائییے جس اصول کے تحت آپکی راہیں جدا ہوئی تھیںعام طور ہر جب دو فریقوں کے درمیان کوئی تنازعہ سر اٹھاتا ہے دونوں فریق اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے دوسرے پر الزامات کی بارش کر دیتے ہیںبعض افراد فریق مخالف پر یہ رکیک حملہ بھی کر دیتے ہیں کہ دوسروں لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے لوگوں کے کان اس طرح بھرتے ہیں کہ میرا مخالف آپکے خلاف بھی باتیں کرتا تھااس میں معاشرے کے ہر ذمہ دار شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر اس کو کہا جائے کہ تمہارا کان کتا کاٹ کے لے گیا تو بجائے وہ کتے کے پیچھے دوڑ لگانے کے پہلے اپنا کان چیک کرےکان میں پڑی کسی بھی بات کی تصدیق ضروری ہےہمارا معاشرہ پہلے ہی سینہ بہ سینہ چلنے والی برائی اور غیر تصدیق شدہ باتوں کی وجہ سے افراط و تفریط کا شکار ہےآخر میں اتنا کہوں گا کہ شہرت دولت رتبہ اولاد وغیرہ وغیرہ زندگی ختم ہوجانے پر ساتھ چھوڑ جاتےہیںمخلوق اور مخلوق کے خالق کی محبت ہی انسان کے کام آتی ہےانسان ھمیشہ سے نہیں ہے مگر ھمیشہ رہیگایا جنت میں یا پھر جہنم میںجنت میں جانے کی تیاری کیجئیے۔ والسلام۔ع عام گلاسگو۔
۔۔۔۔۔

Comments (0)
Add Comment