تمام تعریفیں اس ذات عالی کے لئے ہے جس نے اس کائنات کو وجود بخشا۔ ہر ذرہ ذرہ کا وجود اس کی کےحکم سے ہے۔ یہ حقیقت عیاں ہے کہ انسان پرند چرند بلکہ ہر وہ چیز جو وجود رکھتی ہے اس ہی کے حکم کے تابع ہے۔ ان کا وجود میں آنے سے خاک ہونے تک ہماری ہر حرکت اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ مگر اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے انسان کو وہ اعزاز بخشا جو کسی اور مخلوق کو نصیب نہ ہوا ۔ انسان کی اطاعت میں ہر چیز کو کر دیا گیا جو اس روئے زمین پر پیدا ہوئی لیکن اس کا اپنا دماغ جس سے وہ سوچتا ہے وہ اس کے تابع نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس ذات اقدس کے حکم کے تابع ہے۔ کیا خوبصورت ہے اگر انسان کی مرضی اور منشا میں ہر چیز ہوتی تو یقینا آج دنیا کا توازن بر قرار نہ رہتا۔ ماضی اور حال میں ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ انسان نے اپنے دماغ کی توانائی کو استعمال کرتے ہو ئے اس زمین پر بسنے والی زندگی تو اجیرن کر کے رکھ دیا۔ سبحان اللہ اس ذات اقدس کا جس نے ایسے ہر اس وقت پر اپنی مخلوق کو سنبھالا جب جب بھی یہ تباہی کی طرف گامزن ہوئی۔ اپنے محدود دماغی قوت استطاعت سے بڑھ کر لکھنے بیٹھا ہوں اور شاید کبھی بھی اس پر مکمل نہ لکھ پاوں کیونکہ رب جلیلﷻ کی تعریف کی تکمیل کسی کےبھی بس میں نہی ۔ وہ صرف اپنی محدود سوچ کے مطابق کئی لکھ اور سوچ سکتا ہے اسی تناظر میں چھوٹی سی جسارت اور جستجو ہے اس امید کے ساتھ کہ کچھ حصہ میرا بھی ہو اس شکر کو ادا کرنے میں جو کہ ہر انسان پر لازم ہے۔ اپنی اس کوشش کو اپنے محدود علم اور سوچ سے تو مکمل نہیں کر سکتا تو اس کو اسی ہی کے دیے ہوئے آئینے سے اس ہی کی اپنی زبان و بیان سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ہم خوش نصیبو کے پا س ہے قرآن مجید کی خوبصورت شکل میں۔ تمام اور ہر قسم کی تعریفیں اس ذات عالی کے لیے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا مالک و مختار ہے بسم اللہ سے شروع وہ تعریف جو انسانی دماغ میں آتے ہیں گہرائی تک اتر جاتی ہے کہ انسان ششدر رہ جاتا ہے۔ جب انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اللہﷻ کی بہترین مخلوق کی حیثیت سے آتا ہے اور اپنی پیدائش کے بعد وہ کی قسم کے مسائل سی نبرد آزما رہتا ہے۔ نقصان کی صورت میں یا بیماری حادثات کی صورت ۔ اور پھر آخر میں بڑھاپے جیسی سخت حقیقت اور ان سب کے آخر میں موت جیسی سخت اور تلخ حقیقت ہر انسان کے نصیب میں لکھ دی جاتی ہے۔ قرآن مقدس کی تعلیم کے مطابق ہر انسان کا پیدا ہونا جس میں اس کی مرضی شامل نہیں ہوتی سے لے کر موت تک ایک آزمائش ہے کہ انسان کو مختلف ادوار سے گزار کر دیکھا جائے کے ان میں احسن العمل کون ہے۔ یعنی کہ انسان اپنے اعمال سے پہچانا اور جانا جائے اور خالق کائنات کی ہاں صحیح قرار پاۓ۔ اگر انسان اس زاویے پر ٹھیک ٹھیک اترے تو قرآن پاک آپ کو ربانی انسان (۳۔۷۹) کے لقب سے پکارتا ہے۔ آخرت میں ایسا ہوگا کہ ان کو منتخب کیا جائے گا جو کہ ربانی انسان کہلانے کے حقدار ٹھریں گے۔ اگر دیکھا جائے تو انسان کی زندگی کو دو ادوار میں تقسم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا عارضی مدت کا اور دوسرا ابدی حیات کا۔ جو لوگ پہلے دور میں کامیاب رہیں گے وہ ابدی دور کے کامیاب لوگ ہوں گے اور جو لوگ بدقسمتی سے پہلے دور میں کامیاب نہیں ہوں گے ان کا خالق کائنات کی عدالت میں احتساب ہوگا وہ انجام جس کو بائبل میں الفضتہ المفروضہ( rejected silver) کہاں گیا ہے۔ قرآن مجید میں کامیاب لوگوں کی کامیاب ابدی زندگی کو ان الفاظ میں فرمایا گیا ہےکہ وہ کہیں گے(۳۵۔۳۴) شکر ہے اللہ سبحان تعالی کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اگر اس آیت کی گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ انسان کی زندگی کا خلاصہ نظر آتا ہے یعنی غم پہلے دور کا ظاہرہ اور دوسرا دور غم سے کوسوں دو ر ۔ جو کہ ہر قسم کے غم خوف اور بیماری سے بری ہوگا۔ یعنی کسی قسم کا خوف و ڈر اس کے قریب نہیں آئے گا نہ کسی کے بچھڑنے کا غم نعمتوں سے الائیش زندگی ۔نا کسی نعمت کے کم ہونے کا خوف۔ اللہ سبحان تعالی نے انسان کو چھوٹی سی ایک آزمائش سے گزار کر اس کے لئے ہمیشہ سے نا ختم ہونے والے ابدی زندگی کا انتظام کیا ہوا ہے جو اس کے لیے ہمیشہ سے رہے گی جنت اس کے انتظار میں ہے کہ انسان اس آزمائش میں پورا اترے اور وہ اسی کی ہو کر رہ جائے۔ ارشاد ربانی ہے کہ ہم نے جن و انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہُ نے اس آیت کی تشریح یوں فرمائی ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا فرمایا ہے کہ میں انہیں حکم دوں کہ وہ میری عبادت کریں۔ اس آیت کے نزول سے انسان کو اپنی تخلیق کا راز آشکار ہوتا ہے کہ آخر اس کے پیدا ہونے کا مقصد کیا ہے۔ ایک جگہ اور فرمایاکہ میری عبادت کرو کہ یہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ اور پھر مزید فرمایا کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہی کی عبادت کرو اور کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراو۔ اللہ سبحانہ و تعالی کے بار بار حکم سے یہ بات واضح ہے ہوجاتی ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد حیات اللہ سبحانہ وتعالی کی تابعداری اس کی عبادت اور اس کا شکر ہے اور ہر مسلمان اور انسان کا یہ مقصد حیات ہے اور عبادت کیا ہے ہر وہ عمل جو اس ذات کی حکم کے دائرہ میں آتا ہے اور وہ اخلاص کے ساتھ صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کیا جائے عبادت کے شمار میں آئے گا آپ کا کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا سونا ہر عمل عبادت بن جائے گا۔اور اگر اس میں رضا ہے الہی شامل ہو تو یقینا زندگی کے پہلے دور میں آپ فلاح کے حقدا ر اور ابدی زندگی آپ کی منتظر۔
۔۔۔۔۔