وکیل نے جواب دیا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے اب تک مقدمے کا چالان جمع نہیں کروایا جا سکا۔
جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کو بلا لیتے ہیں، 14 روز بعد بھی چالان جمع کیوں نہیں ہوا؟ وکیل علی بخاری نے استدعا کی کہ ہمیں 3 مارچ کے بعد کی تاریخ دے دیں تاکہ استثنیٰ کی درخواست دائر نہ کرنی پڑے۔
جج نے جواب دیا کہ تفتیشی افسر سے معلوم کر لیتے ہیں، پھر تاریخ دیں گے، فواد چوہدری چاہیں تو چلے جائیں، اگلی تاریخ تفتیشی افسر کے پیش ہونے پر دیں گے۔