ٹرمپ کی روس کو دھمکی: 50 دن میں جنگ ختم نہ ہوئی تو 100 فیصد تجارتی محصولات، یوکرین کو جدید اسلحہ دینے کا اعلان

نیٹو کے ذریعے یوکرین کو اربوں ڈالر کا اسلحہ، روس کے تجارتی اتحادیوں کے لیے 100 فیصد محصولات کی وارننگ

واشنگٹن | ڈیلی ستون / نمائندہ خصوصی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو ختم کرنے کا کوئی معاہدہ آئندہ 50 دنوں میں نہ ہوا تو امریکہ، روس کے تجارتی اتحادیوں پر بھی 100 فیصد ثانوی محصولات (Secondary Tariffs) نافذ کر دے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی ملک جو روس سے تجارت جاری رکھے گا، اگر وہ امریکہ کو اپنی مصنوعات برآمد کرنا چاہے گا تو ان پر 100 فیصد درآمدی ٹیکس عائد ہوگا، جس سے ان کی اشیاء امریکی مارکیٹ میں انتہائی مہنگی ہو جائیں گی اور خریدار متبادل تلاش کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان واشنگٹن میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی معیشت کو کمزور کرنے اور یوکرین میں جنگ کے خاتمے پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے، کیونکہ روس کی ریاستی آمدنی کا بڑا حصہ تیل اور گیس کی برآمدات پر منحصر ہے۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے یوکرین کو “جدید ترین ہتھیار” فراہم کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا بھی اعلان کیا، جو نیٹو کے ذریعے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکہ نیٹو ممالک کو اسلحہ دے گا اور وہ اسے یوکرین بھیجیں گے، جبکہ اس تمام اسلحے کی لاگت یورپی ممالک برداشت کریں گے۔ نیٹو چیف مارک روٹے نے کہا کہ یہ فیصلہ اجتماعی سطح پر کیا گیا ہے اور اس میں میزائل، گولہ بارود، اور فضائی دفاعی نظام جیسی اشیاء شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یوکرین کو اربوں ڈالر مالیت کے “ٹاپ آف دی لائن” ہتھیار فراہم کیے جائیں گے اور انہیں فوری طور پر میدان جنگ میں پہنچایا جائے گا تاکہ روسی حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے خاص طور پر پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کا ذکر کیا، جو یوکرین کو یورپی ممالک کی جانب سے دیا جائے گا اور ان کا متبادل امریکہ فراہم کرے گا۔ مارک روٹے نے کہا کہ اگر میں آج ولادیمیر پیوٹن ہوتا تو فوری طور پر مذاکرات پر سنجیدگی سے غور کرتا، جبکہ اس موقع پر صدر ٹرمپ خاموشی سے اثبات میں سر ہلاتے رہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس اعلان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے اور ان کے تعاون، ہمدردی اور امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم روسی حملوں سے بہتر تحفظ کے لیے ممکنہ حل پر بات چیت کر رہے ہیں اور امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون پر آمادہ ہیں۔

دوسری جانب روس کے خلاف ٹرمپ کے ان اعلانات کے باوجود ماسکو اسٹاک ایکسچینج میں مثبت ردعمل دیکھا گیا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار اس سے کہیں زیادہ سخت اقدامات کی توقع کر رہے تھے۔ تاہم یہ اعلان اس حوالے سے اہم ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد پہلا بڑا عسکری اعلان ہے جو یوکرین کے حق میں سامنے آیا ہے، اور ساتھ ہی ان کے لہجے میں روسی صدر پیوٹن کے خلاف سختی اور دو ٹوک موقف بھی نمایاں نظر آیا۔ یہ تبدیلی امریکی خارجہ پالیسی کی نئی سمت کا اشارہ ہو سکتی ہے جو نیٹو کے ساتھ مضبوط عسکری تعاون اور روس کے

خلاف سخت اقتصادی اقدامات پر مبنی ہے۔

Comments (0)
Add Comment