سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: بارشوں نے قبائلی علاقوں اور گلگت بلتستان میں تباہی مچا دی

تحریر: ابرار احمد

باجوڑ میں حالیہ شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے متعدد علاقوں میں تباہی مچادی ہے۔ باجوڑ کے علاقے جبراڑئی میں سیلابی ریلے نے کئی گھر منہدم کر دیے، جبکہ مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے۔ مزید 17 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی اور اسسٹنٹ کمشنر خار ڈاکٹر صادق علی تحصیل سالارزئی کے علاقے جبراڑئی میں امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے امدادی ٹیمیں موجود ہیں اور سیلاب زدگان کے لیے عبوری رہائش کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں کلاؤ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ متاثرہ خاندانوں کی حالت انتہائی نازک ہے اور مقامی انتظامیہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ حکومت آزاد کشمیر نے شدید بارشوں کے پیش نظر تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ طلباء اور اساتذہ کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

گلگت بلتستان میں بھی بارشوں کے بعد مختلف حادثات میں 10 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کے اثرات سے مقامی سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید بارش کا امکان ہے، جس کے پیش نظر حکومتی اور مقامی ادارے ہنگامی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی کمیونٹی کے افراد مشترکہ طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ابرار احمد لکھتے ہیں کہ یہ قدرتی آفات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ معاشرتی اور معاشی ڈھانچوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایسے حالات میں انسانی ہمدردی، بروقت امداد اور مربوط حکومتی اقدامات کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ متاثرہ افراد کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قدرتی آفات کے دوران انسانیت کی بنیاد پر کام کرنا اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہی اصل طاقت ہے۔

Comments (0)
Add Comment