اسکاٹ لینڈ کے شب و روز
تحریر: شاہد میر
اب کوئی خطرے کی بات نہیں اب ہر ایک کو ہر ایک سے خطرہ ہے۔ آج کی تاریخ 26 اپریل کی صبح تک دُنیا میں کرونا وائرس کے عذاب میں 2.89 ملین افراد مبتلا ہو چکے ہیں جبکہ دو لاکھ دو ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے، 8 لاکھ 16ہزار افراد اِس “بیماری” سے نجات پا چکے۔ اسکاٹ لینڈ کی کُل آبادی 55لاکھ کے قریب ہے۔ تقریباََ 45ہزارافراد کے ٹیسٹ لئے جا چکے۔اسکاٹ لینڈ میں دس ہزار افراداس وائرس کا شکارجبکہ 1231 افراد فوت ہو چکے۔ UK میں 1لاکھ 48 ہزار افراد میں کرونا وائرس پازیٹو جبکہ 20,319 افراد اِس وائرس سے لڑتے لڑتے “ہار” گئے۔
آج سے دو ماہ قبل یو کے میں کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے کوئی کُتا بھی کسی بھی شہر یا گاؤں میں مر جاتا تو اخبارات کے پہلے صفحہ پر سُرخیوں کے ساتھ خبریں لگتیں اور چھپتی لیکن آج ہر گھنٹے بعد پتا چلتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے۔ دِل اور دماغ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ صرف یو کے میں تقریباََ ایک ماہ کے اندر اندر 20ہزار افراد اب ہم میں نہیں رہے۔ کبھی کبھی یہ سب جھوٹ اور بکواس لگتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ لوگ مر رہے ہیں، جنازے “چپ چاپ” اُٹھائے جارہے ہیں، لوگ اپنے پیاروں کو کندھا بھی نہیں دے پا رہے۔قیامت سے پہلے قیامت کے منظر ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ جس میں وائرس “پازیٹو” آ جاتا ہے اُس سے اس کے بچے اور اس کے پیارے اور پیاریاں بھی دور بھاگتے ہیں، نظر نہ آنے والی “بلاء” سے ہر کوئی ڈر رہا ہے۔
اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر (پاکستانی زبان میں وزیر اعظم اسکاٹ لینڈ) نکولا اسٹرجن نے کہا ہے کہ” لوگ اب کئی ماہ تک نارمل زندگی نہیں گزار سکیں گے اور لاک ڈاؤن اور کرفیو کا سِلسلہ بھی کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے”۔
کرونا وائرس نے دُنیا کی ایسی تیسی پھیر دی ہے۔سارے نظام سارے خواب تباہ و برباد کر کے رکھ دئیے ہیں۔ ایسا وائرس جو انسانی آنکھ سے نظر بھی نہیں آتا لیکن دُنیا کی بڑی بڑی نام نہاد طاقتوں نے اس کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ کاروبار بند، سڑکیں بند، بازار بند، مال اور مال والے بند، شاپنگ سینٹرز اور شاپنگ سینٹر والیاں بھی بند، کارخانے بند، بڑی بڑی گاڑیاں بند، جہاز بند، زمین پر زمین کے نیچے اور زمین کے اوپر آسمان پر چلنے والی تمام ٹریفک بند۔ دنیا کا پہیہ رُک چکا ہے۔ ہر چیز کی قیمت صفر جمع صفر ہو چکی ہے۔مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ بڑی بڑی گاڑیوں اور جہازوں تک کی کوئی قدر نہیں رہی۔ امیر اور غریب سب برابر ہو چکے ہیں۔ سب اپنے اپنے گھروں میں بے بس بند پڑے ہیں۔ باہر نکلو تو خوف کی وجہ سے گھبراہٹ ہوتی ہے، سب “آزاد قیدی” بن چکے ہیں۔ سب آزاد ہیں لیکن قیدی بننے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بقول شاعر
کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر
کچھ یوں بسرہوئی کہ خُدا یاد آگیا
اب سب کو خدا یاد آگیا، سب بے بس ہو کر ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔عذاب،مصیبتیں اور دُکھ انسانوں پر ہمیشہ سے ہی آتے رہے ہیں لیکن ایک انسان کو اور ایک مسلمان کو ایسے حالات میں ڈرنے کی بجائے اللہ پاک کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنے اعمال کو درست کرنا چاہیے، توبہ کا دروازہ اب بھی کُھلا ہے، سب معافی مانگیں اور دھوکے اور فراڈ کی زندگی کو چھوڑ دیں۔ لوگوں میں آسانیاں تقسیم کرنا شروع کر دیں۔بڑے بڑے گھروں کے خواب مسلمان کا شیوا نہیں تھا۔ یہ فارم ہاؤسز، یہ بڑی بڑی گاڑیاں، عیاشیوں کے اڈے، بے حیائی، جھوٹ اور نمود و نمائش کی زندگی کو ترک کر کے اللہ پاک کے احکامات پر صدق دل سے عمل کرنا ہو گا۔اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں اور آخرت کو سنواریں۔ غریبوں کی دِل کھول کر مدد کریں۔ دولت کی بجائے نیکی کو معیار بنائیں، نبی پاک ﷺ کی محبت کو دِل میں رکھتے ہوئے اُن کے ارشادات پر عمل کریں۔ اپنے گھر، دفتر، دُکان اور ہر جگہ دوسروں کا خیال کریں۔ ظلم کو ختم کریں، کسی کا ناحق مال نہ کھائیں، کسی کی عزت اور وقار کو اپنی حیوانیت سے داغ داغ نہ کریں۔ اِس دنیا کو عارضی سمجھیں اور اتنا مال ہی کمائیں جتنا اِس چند سال کی زندگی کے لئے ضروری ہے، بڑے بڑے بنگلوں اوربڑے بڑے محلات کے چکروں سے باہر آجائیں اور نماز کی پابندی کریں، زکات ادا کریں اور لوگوں کی خدمت کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیں۔
کرونا وائرس نے سب کو سمجھا دیا کہ ہم کچھ نہیں، ہماری طاقت 0+0 ہے۔ ہمارے عہدے اور اختیارات صرف اور صرف پانی کے بلبلے کی طرح ہیں، حقیقی بادشاہت اور طاقت صرف اور صرف اللہ پاک کی ہے۔ ہم سب صفر پلس صفر ہیں۔
اسکاٹ لینڈ کے شب و روز