تحریر: چوہدری خالد پرویز
میرے پیارے ملک پاکستان سے جب کوئی طالب علم پڑھنے کے لئے برطانیہ آتا ہے تو آنے سے پہلے ان کے دل میں بہت پیارے خواب ہوتے ہیں کہ ہم برطانیہ پڑھنے کے لیے جائیں گے، خوب محنت سے پڑھائی کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ محنت مزدوری کر کے اپنا پڑھائی کا خرچ بھی پورا کریں گے اور گھر والوں کو وہ رقم واپس بھیجیں گے جو ان کے والدین نے بینک سے قرض لیا تھا کہ ان کا بیٹا اچھی تعلیم کے لیے برطانیہ جا سکے۔ ایسے بہت سے نوجوان لڑکے جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے پاکستان میں اپنی پراپرٹی فروخت کر کے یا لوگوں، رشتہ داروں سے ادھار مانگ کر یہاں پڑھنے آتے ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ برطانیہ میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ کیونکہ جو وہ دل میں سوچ کر آتے ہیں کہ ہم محنت کریں گے، دل لگا کر کام کریں گے، مگر یہاں پر سب کچھ اس کے برعکس ہے۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ لندن جیسے شہر میں بہت زیادہ کوشش کے بعد جواب ملا کہ وہ کام پر آ جائے، ایک ریسٹورنٹ میں کچن کے اندر کام کرنے کے لیے، یہ لڑکا چار ہفتے کام کرتا رہا، مگر اس کو مزدوری نہ دی گئی، لڑکا بہت پریشان ہوا کہ چار ہفتے کام کیا اور سوائے دو وقت کے کھانے کے کچھ نہیں ملا، لڑکے نے کہا کہ جناب جو رقم میں گھر سے لایا تھا ختم ہو گئی ہے۔ تو ریسٹورنٹ کے مالک نے ترس کھا کر اسے سو پاؤنڈ دے دیئے۔ یہ نوجوان لڑکا ایک گھنٹہ کے حساب سے مزدوری کی بات کرتا تو مالک کہتا کہ اسے چالیس گھنٹے ہفتہ میں کام کرنا ہو گا اور 40 پاؤنڈ مزدوری ملے گی، ایسے ٹرینڈ بزنس مین جو چار ہفتے کام کروا کر 100 پاؤنڈ اور جنرل سٹور سے 1 پاؤنڈ فی گھنٹہ کے حساب سے بات کریں گے تو ایسے نوجوان اس ملک سے جب کام کرنے آتے ہیں تو ان کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی۔ ایسا ہی ایک نوجوان جو انڈیا سے آیا اور کوئی اچھی جاب نہ حاصل کر سکا، بہت زیادہ قرض لے کر آیا تھا، بہت حساس تھا۔ اس غم سے اس دکھ کے ساتھ کہ والدین یہ قرض کیسے اتاریں گے، اس پریشانی میں ڈپریشن کا شکار ہو کر اس کی موت ہوگئی۔ وہ اس دنیا کو چھوڑ گیا، اب اس کے والدین پر کیا گزری ہو گی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی جانتی ہے۔ بڑے بڑے بزنس مین بڑی بڑی کوٹھیوں اور وسیع کاروبار کے مالک ہیں اور یہ لوگ اپنے ملک سے آئے ہوئے نوجوان لڑکوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ ایک دن ایسا آئے گا دنیا کا یہ سارا مال دنیا میں رہ جائے گااور انسان تن تنہا اس دنیا سے چلا جائے گا، میں ایسے بزنس مینوں کو درخواست کروں گا کہ پلیز یہ جو لوگ آپ کے ملک پاکستان سے پڑھنے کے لیے آئے ہیں، ان کے دل میں آپ کے لیے بہت زیادہ محبت، بہت پیار ہے، پلیز آپ لوگ ان لڑکوں کو ان کی مزدوری دیں یہ جو مزدوری کرتے ہیں یہ بہت مجبوری میں کرتے ہیں۔ جب آپ ان کے ساتھ ایک پاؤنڈ فی گھنٹہ مزدوری کی بات کریں گے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی۔
یہ نوجوان پاکستان میں بتائیں گے کہ فیصل آباد کا بزنس مین، لاہور یا کراچی کا بزنس مین ہم سے ملا اور برطانیہ میں ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا، اگر آپ لوگ ان کو اپنا بیٹا سمجھ کر جاب دیں تو یہ اور ان کا خاندان آپ کو ہمیشہ اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔ آپ کی کروڑوں کی کوٹھی پاکستان میں ہو لیکن آپ کو لوگ یہ کہیں کہ آپ نے اپنے ملک کے بیٹے کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ یہاں ایک لڑکا کماتا ہے اور پاکستان میں دس لوگ کھاتے ہیں، ان سب کی دعائیں آپ کو ملیں گی۔
آنے والی نئی نوجوان نسل کو آپ کی محبت کی ضرورت ہے کہ آپ ان سے زیادہ سے زیادہ تعاون کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا صلہ عطا فرمائے گا۔ یہ یاد ساری زندگی ساتھ رہے گی کہ آپ نے اچھا سلوک کیا، بیٹوں کی طرح رکھا، وقت تو گزر جائے گا مگر یادیں رہ جائیں گی۔ جو اچھے لوگ ہیں وہ اس دنیا میں نہ بھی ہوں تو ان کو ان کی اچھی باتوں، اچھے سلوک کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ یہاں پر بہت اچھے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے ملازموں کے ساتھ بیٹا جی، بیٹا جی کہہ کر بلاتے ہیں۔ اتنے پیار سے بلاتے ہیں، اچھا سلوک کرتے ہیں، کسی ملازم کو ایڈوانس پیسے چاہئیں ہوں تو وہ بھی دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ان نوجوانوں کے دلوں میں بہت محبت اور عزت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے بزنس میں بہت عزت دی ہے کہ وہ دوسروں کو عزت، محبت دیتے رہیں۔ جو لوگ ملازم سے اچھا سلوک نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طرح سے حساب برابر کر دیتے ہیں۔ یہ مزدوری ہے مجبوری کے ساتھ۔