تحریر: چوہدری خالد پرویز
ایشائی ریاستوں کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد کو مڈل ایسٹ ریاستوں میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کو بے کار اور کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کو سمگلرزلالچ، فراڈیا جبر کے استعمال سے اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور ان کو زیادہ دولت کمانے کا لالچ سے کر خلیجی ممالک میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ غیر ملکی کارکنوں سے جبری مشقت لینے کا رواج عمان، قطر، کویت اور یو اے ای میں عام پایا جاتا ہے۔ ان سے سفری اخراجات اور رہائش و کھانے کی مد میں زائد پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔
جب تک ایجنٹ یا سمگلر اپنی مطلوبہ رقم وصول نہیں کرتا ورکرز کو کام کے پورے پیسے ادا نہیں کیے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کزشتہ دس برسوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد غیر قانونی طور پر مڈل ایسٹ کے ممالک میں منتقل ہوئے۔ ان میں پانچ ہزار بچوں کی تعداد بھی شامل ہے، جو جنوبی ایشیائی ممالک سے وہاں منتقل کی گئی۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق شمالی افریقہ اور مڈل ایسٹ کے ممالک میں دو لاکھ تیس ہزار افراد جبری مشقت میں ملوث ہیں۔ انسانی سمگلنگ کا سب سے تاریک پہلوجبری مشقت اور ممنوعہ روزگار کا ہے، جو آج کل زوروں پر ہے۔ لیکن گزشتہ چند عشروں سے انسانوں کی جنسی مقاصدکے لیے تجارت بھی فروغ پارہی ہے جو جبری مشقت کی سب سے بدنما شکل ہے۔
عمومی تعریف کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنسی غلامی اور جبری جسم فروشی کی شکل میں انسانی سمگلنگ استحصال کا دوسرا نام ہے۔ مڈل ایسٹ کے حکمران جسم فروشی کے ساتھ جڑے ہوئے جنسی استحصال کو انسانی سمگلنگ کا نتیجہ قرار دینے سے گریزاں ہیں۔ وہ اس بزنس کے تانے بانے اور استحصال کے مفہوم بارے ابہام کو شکار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر آنے والے ان کی خدمت کے لیے آتے ہیں جس کا ان کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔ ان کے پاس کام کرنے کے کئی مواقع ہوتے ہیں جن کے انتخاب میں وہ آزاد ہوتے ہیں۔ عرب معاشرے کے نوجوان گھروں میں کام کرنے والی عورتوں کا جنسی استحصال کرنے میں حق بجانب خیال کیے جاتے ہیں۔
غریب ممالک کی عورتیں آسانی سے پیسے کمانے کے لیے ان ممالک کی سیکس انڈسٹری میں شامل ہوتی ہیں۔ ان میں سے اکثر اپنے معاشی حالات سے تنگ ہوتی ہیں۔ ایسی عورتیں اپنے آپ کو غلامانہ حالات میں گھری ہوئی پاتی ہیں۔
سیکس انڈسٹری میں داخل ہونے والی عورت کو سمگلرز جسمانی اور نفسیاتی ہتھکنڈوں سے کنٹرول کرتے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں انسانی سمگلنگ کی ایک بڑی وجہ وہاں بڑھتی ہوئی جسم فروشی ہے۔
مڈل ایسٹ کے تقریباََ تمام ممالک میں یہ ایک غیر قانونی فعل تصور کیا جاتا ہے۔ یعنی جائز شادی کے علاوہ جنسی ضرورت کو پورا کرنا نہ صرف گناہ سمجھا جاتا ہے بلکہ قانون میں اس کی سزا بھی مقرر ہے۔
شادی کے بعد جنسی عمل کو مذہبی طور پر غیرقانونی قرار دینا اس کے وجود کا جواز ہے جو بالآخر جسم فروشی کی طلب کو مزید فروغ دیتا ہے۔
انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی پر حکومتوں کی طرف سے کنٹرول قانون سازی کی کمی کے سبب نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔