تحریر: محمد بشیر چوہدری
چین دنیا کی ابھرتی ہوئی بڑی معاشی، سیاسی اور فوجی طاقت ہے۔جس سے امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک خائف نظر آتے ہیں لیکن اس کے باوجود خود چین اپنے مخصوص طرز عمل کی وجہ سے کسی بھی جگہ پر جھگڑے کا باعث نہیں بنا بلکہ جھگڑے کی صورت میں ہمیشہ چین نے مصالحت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔بدقسمتی سے بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنے جارحانہ طرز عمل کی بدولت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ برابر حالت جنگ میں ہے۔بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ہمسایوں کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے جس خطے میں خطرے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ تو اس کے تنازعات کی ایک تاریخ ہے لیکن اب چین کے ساتھ اس نے اپنا تنازعہ کھڑا کرکے پوری دنیا کو اس خطے کی طرف متوجہ کردیا ہے۔دنیا بھر کے مبصرین حیران ہیں کہ اس وقت پوری دنیا کرونا جیسی وباء سے نمٹنے میں مصروف ہے لیکن بھارت ہر روز کسی نہ کسی ملک کے معاملات میں مداخلت کر کے دنیا بھر میں ایک طرف بد آمنی کا باعث بن رہا ہے تو دوسری طرف علاقے کے لئے امن و امان کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔بھارت کے اس رویے نے دنیا کے بڑوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر کسی نہ کسی موقع پر تو اس بے لگام ہاتھی کو لگام ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بات واضح ہے کہ بھارت کسی ہمسائے سے کوئی بھی تنازعہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں بلکہ وجہ تنازعات بن رہا ہے اسی وجہ سے ایک بھی ہمسایہ اُس سے خوش نہیں اپنے طورطریقے درست کرنے کی بجائے علاقائی طاقت بننے کے جنون میں نریندرمودی نے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اِس لڑائی اور محازآرائی سے صرف جنوبی ایشیا کے ممالک ہی متاثر نہیں ہورہے بلکہ بھارت کا اپنا بھی نقصان ہورہا ہے حالت یہ ہوگئی ہے کہ کوئی ہمسایہ اُس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں چینی معیشت کو ترقی کی راہ سے ہٹانا امریکہ کی ضرورت ہے اِسی لیے وہ بھارت کو تھپکی دیکر جنگ میں کودنے کا مشورہ دے رہاہے وگرنہ امریکی پالیسی ساز بخوبی جانتے ہیں کہ بھارت میں اتنی استعداد ہی نہیں کہ چین سے لڑائی جیتنا تو کُجا مناسب طریقے سے مقابلہ کر سکے بھارت جارحانہ عزائم کی بنا پر کسی کا پسندیدہ نہیں بلکہ نفرت کی علامت بن چکا ہے صرف کچھ ممالک اسے اپنے مفاد کے لئے بھارت کے دوست ہیں، وگرنہ اُنھیں بھی پتہ ہے کہ جنونی بھارت دنیا کے لیے خطرے سے کم نہیں۔
لداخ نے ایک شدید تنازعہ کی شکل اختیار کرلی جس نے پورے خطے کو تناؤ کی حالت میں چھوڑ دیا اور کسی بھی وقت ہنگامے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سے قبل، سکم پر ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان تصادم ہوا تھا جہاں دونوں ممالک نے اپنی فوج تعینات کی تھی۔ تعداد بڑھ گئی ہے۔ اب لداخ میں بھی حادثہ معمول بنتا جارہا ہے۔ فسادات کے بعد دونوں اطراف نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کرنا شروع کردیا ہے۔ ابھی، ہندوستانی فوجی بینرز لہرارہے ہیں اور چینی فوجیوں سے واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں، لیکن صورتحال یہ ہے۔ تباہ کن تبدیلی کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پچھلے مہینے میں، دونوں ممالک کی فوجیں ایل او سی پر سات مرتبہ جھڑپیں ہوئیں۔
دونوں اطراف کے فوجیوں نے اہم جانی نقصان اٹھایا اور کچھ گرفتاریاں کیں جن میں سے چین نے نوٹس لیتے ہوئے ہندوستان کو تباہ کن نتائج کے لئے تیار رہنے کا انتباہ دیا، نہ صرف لائن آف ایکچوئل پر گشت بڑھا بلکہ رویہ جارحانہ ہوگیا ہے: ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کے لئے اڑتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ چین کو امریکی تھپکی کی بھی پرواہ نہیں اور وہ ہر صورت بھارت کو سبق سکھانا چاہتا ہے۔
1962کی بھارت چین جنگ میں دہلی کو منہ کی کھانا پڑی اِس لیے مودی حکومت فوری طور پرنیا محاز کھولنے سے گریزاں ہے اور مزاکرات کے زریعے کوئی افہام تفہیم کا پہلو تلاش کرنا چاہتی ہے مگر چین اب کسی رعایت پر تیار نہیں 2017 سے دونوں ممالک علاقے لداخ کے متنازعہ علاقے میں تعینات فوجی دستوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اُس کے سخت رویے سے واضح ہے کہ بھارت کو ایک بار ہی ایسا سخت سبق سکھا دیا جائے تاکہ مستقبل میں کبھی آنکھیں دکھانے کے قابل نہ رہے