برطانیہ میں پاکستانی سیاست کے کمالا ت ۔ تحریر۔۔۔ مصطفیٰ علی بیگ(گلاسگو)
لفظ سیاست کے معنی انتظام وانصرام کے ہیں، سیاست علم حکمت کا وہ گوشہ ہے، جوذاتی حالات سے اٹھ کر سماج میں استحکام کی بنیاد کا زینہ ہے. سماج میں سیاسی کلچر کا میں پروان چڑھنااس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ نسلوں میں سیاسی فکر موجود ہے. پاکستان میں سیاست ایسا موضوع ہے جو ہر جگہ ڈسکس کیا جاتا ہے. پاکستانی جہاں بھی ہوں سیاست میں بڑی دلچسپی لیتے ہیں. غالبا پاکستان واحد ایسا ملک ہے جہاں کی سیاسی پارٹیز کی آفیشل سیاسی ونگ بیرون ملک نہ صرف موجود ہیں بلکہ باقاعدہ انتحابات منقعد کروا کر عہدیداران منتحب کئے جاتے ہیں، جس کا مقصد پاکستان میںسیاسیسرگرمیوںکےلئےچندہجمع کرنا ہوتا ہے۔پاکستان کی ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف یہ کام بخوبی انجام دیتی ہےاور ہر سال بیرون ملک انٹر ا پارٹی الیکشن ضرور منعقد کرواتی ہے. دلچسپ امریہ ہے کہ یہی انٹرا پارٹی الیکشن پاکستان میں نہیں ہوتے. بلکہ صرف امیر ممالک جیسے برطانیہ، امریکا و دیگر ممالک میں بڑے جوش سے کروائے جاتے ہیں.گزشتہ مارچ گلاسگو میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد بڑے جوش و جذبے کے ساتھ ہوا جس میں نیا پاکستان پینل (طارق شبیر و علی احمد صوفی گروپ) بالمقابل انصاف ورکر فرنٹ (علی حیدر خان و عمر اسحاق گروپ )تھا.مارچ میں ہونے والے انتخابات پہلے ہی انتہائی متنازعہ رہے کیونکہ مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر پاکستان میں استعمال ہونے والے ہتھکنڈے استعمال ہوئے۔ ایک رائے دہندہ نے اپنا ووٹ چوری ہونے کا اعلان فیس بک پر کر دیا. اس بات کو پاکستانی کمیونٹی میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی لیکن یہ انتہائی خطرناک صورتحال تھی. ووٹ چوری ہونے کی اگر تحقیقات کی جاتیں تو ووٹ چرانے والا فرد فراڈ کے کیس میں جیل بھی بھیجا جا سکتا تھا. یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ایسا واقع رپورٹ ہوا ہو، ایسے واقعات انگلینڈ کی کونسلز کے الیکشن میں کافی رپورٹ ہوئے ہیں، برطانیہ کے انتخابی کمیشن نے2015 میں ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں چند وجوہات کا ذکر کیا گیا تھا کے ایسا کیوں ہے کہ ساؤتھ ایشین خصوصا پاکستانی الیکشن فراڈ کا شکار بن سکتے ہیں، اس رپورٹ میں الیکشن فراڈ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سات اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی جس میں زبان اور علم کی کمی ، برادری کی وفاداری اور دباؤ،مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں میں شمولیت کی کمی اور امیدواروں کے انتخاب میں امتیازی سلوک جیسے مسائل کو بیان کیا گیا تھا.ان دونوں واقعات میں فرق یہ تھا کہ اول الذکر الیکشن پاکستانی سیاسی پارٹیز کے بیرون ملک ونگز کے تھے اور موخرالذکر برطانیہ کی مقامی سیاست سے تھے. مقصد یہ ہے کہ ہمارا رویہ بھلے وہ پاکستان ہو یا برطانیہ بحثیت قوم ایک ہی ہے.گلاسگو میں غرض تحریک انصاف کے دونوں گروپس کی طرف سے الیکشن بدعنوانی کے الزامات عروج پر تھے ۔ان انتحابات میں فرضی رائے دہندگان کا ذکر بھی ہوا ، جیسا کہ برطانیہ میں کہیں کہیں پوسٹل ووٹ کی وجہ سے ہوتا ہے، تحریک انصاف کے دونوں گروپس نے ایک دوسرے پہ خوب کیچڑ اچھالا، بل آخر علی احمد صوفی ہمیشہ کی طرح فاتح قرار پائے ،تحریک انصاف کی صفوں کے درمیان لڑائی اس وقت منظر عام پر آگئی جب طارق شبیر و علی احمد صوفی گروپ نے الیکشن سے کچھ روز قبل ممبرشپ کی آخری تاریخ کےکچھ دن قبل ممبرشپ کا اندازہ کرنے کے بعد علی حیدر خان و عمر اسحاق گروپ کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا. گزشتہ الیکشن میں علی حیدر خان ، طارق شبیر و علی احمد صوفی گروپ کا حصہ تھے . کسی گروپ سے علیحدہ ہو کر الیکشن لڑنا کوئی اچمبھے کی بات نہیں لیکن جس انداز سے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کی گئی وہ درست روایت نہیں تھی.بشیر بدر صاحب فرماتے ہیںدشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہےجب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوںتحریک انصاف کی پالیسی کے مطابق ، صرف ادا شدہ ممبرشپ فیس والے ممبروں کو ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے اور پارٹی کی رکنیت 36 پاؤنڈ سالانہ ہے۔ تحریک انصاف کی رکنیت ویسٹ اف اسکاٹ لینڈ میں 1158 کے قریب تھی. ایک اندازے کے مطابق تحریک انصاف ویسٹ اف اسکاٹ لینڈ نے چالیس ہزار پاؤنڈ ان انتحابات کی مد میں حاصل کئے تھے جو ظاہر ہے پاکستان منتقل ہوں گے. ایک انتہائی اہم نقطہ یہ ہے کہ ان 1158ممبران میں سے تقریبا 50ممبرز ہر سال اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرتے. کیوں نہیں کرتے جبکہ وہ سالانہ مہنگی ممبرشپ بھی ادا کرتے ہیں. اس بات کا جواب شائد الیکشن ڈیزائن کرنے والے دے سکیں. یہ چالیس ہزار پاؤنڈ صرف ویسٹ اف اسکاٹ لینڈ نے بھیجے ہیں ، پورے برطانیہ سے ہر سال لاکھوں پاؤنڈز صرف ممبرشپ کی مد میں تحریک انصاف کو پاکستان منتقل کئے جاتے ہیں، تحریک انصاف کی یہ چندہ مہم مبینہ طور پر نہایت وضعدار مالی بدعنوانی سمجھی جا سکتی ہے . یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف کے پارٹی سربراہ عمران خان کے خلاف مالی بدعنوانی کا ایک مقدمہ تحریک انصاف کے امریکا سے ابتدائی کارکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا جو ابھی بھی پاکستان کی عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں پارٹی ہیڈ عمران خان نے سٹے آرڈر سے مقدمہ رکوایا ہوا ہے۔اس وقت پاکستان میں تحریک انصاف بر سر اقتدار جماعت ہے ،سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بدیشی سیاست دان جن کو عہدیدار چنا گیا ہے میں جرت ہے کے وہ اپنے حق حلال کے دے ہو پیسوں کے متعلق حکومت سے سوال کر سکیں کہ جو پیسہ برطانیہ سے بھیجا گیا ہے اس سے بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہوا ہےاور اس کا مصرف کیا ہے. دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان عہدیداروں کو صرف اسکاٹ لینڈ کے مقامی پاکستانی لوگ تو جانتے ہوں گے لیکن پاکستان میں ان کی کوئی پہچان نہیں ہے۔ پاکستانی سیاست دا ن صرف ان کو یاد رکھتے ہوں گے جو کھانا کھلاتے اور اچھی سے رقم پارٹی کو عطیہ کرتے ہیں. یہ بدیشی سیاست دان سیاسی عہدوں کے ساتھ کاٹھ کے ایسے کھلونے ہیں جن سے دل تو بہل جائے گا مگر کوئی کردار ادا کرنے سے قاصرہوں گے.اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ اپنی پوری نیک نیتی سے جو کچھ دیکھا ،سنا اور محسوس کیا ہو وہ ضبط تحریر میں لا ئیں اورفیصلہ اپنے پڑھنے والوں پر چھوڑ دے ۔ پچھلی نصف صدی میں پاکستانی برطانیہ میں دوسری بڑی نسلی اقلیت بن کر ابھرے ہیں برطانیہ کی ثقافتی ، سیاسی اور کاروباری زندگی میں ایک بہت بڑا حصہ ڈالا ہے . برطانوی معاشرے کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرنے کے باوجود برطانوی پاکستانیوںکو متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں سب سے اہم مسئلہ نسل پرستی ہے.میں سمجھتا ہوں اسکاٹ لینڈ میں آباد پاکستانیوں کو مقامی سیاست میں حصہ لینے کی ضرورت ہے ،کیوں کہ ابھی چندگنے چنے افراد ہی اسکاٹ لینڈ کی مقامی سیاست میں کردار ادا کر رہے ہیں، مقامی سیاست میں حصہ لینے سےنہ صرف یہاں پر موجود پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں خاصی مدد ملے گی بلکہ وہ سماج میں گھل مل کر بہتر انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں گےاور نسل پرستی جیسے مسائل کا تدارک ہو سکے گا.
۔۔۔۔۔