امریکی سینیٹ میں ریپبلکن رکن کی جانب سے پاکستان اور چین مخالف بل پیش
واشنگٹن، 27 جولائی 2024** — امریکی سینیٹ میں ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے پاکستان اور چین کے خلاف ایک متنازعہ بل پیش کیا ہے، جس میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور پاکستان کی جانب سے مبینہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بھارت کی مدد کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
سینیٹر مارکو روبیو کی جانب سے پیش کردہ اس بل میں بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ امریکہ بھارت کے ساتھ اسی طرح کے تعلقات استوار کرے جیسے اسرائیل، کوریا، جاپان اور نیٹو جیسے اتحادیوں کے ساتھ ہیں۔ روبیو کا کہنا ہے کہ اس تجویز کا مقصد بھارت کو خطے میں چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف مضبوطی فراہم کرنا ہے۔
بل کے مطابق، اگر بھارت کے خلاف مبینہ طور پر کسی بھی قسم کے اقدامات کیے گئے، تو پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد روکنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔ اس میں کانگریس کو اس سلسلے میں آگاہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ بھارت کے خلاف اقدامات کی صورت میں پاکستان کی مدد پر نظر رکھی جا سکے۔
اس بل کے ذریعے سینیٹر روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے تاکہ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر دیکھتے ہوئے، امریکہ کو اس کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات استوار کرنا چاہیے۔
پاکستان اور چین کے خلاف یہ بل اس وقت پیش کیا گیا ہے جب دونوں ممالک کی جانب سے امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید کی جا رہی ہے اور امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ بل کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بھارت کو مزید مضبوط بنانے اور چین و پاکستان کی جانب سے ممکنہ خطرات کا مؤثر جواب دینے کے لیے ضروری ہے۔
یہ بل امریکی سینیٹ میں پیش ہونے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف ردعمل کا باعث بنا ہے۔ چین اور پاکستان نے اس بل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ بھارت نے اسے اپنے قومی مفادات کے حق میں ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بل کے ذریعے امریکہ کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں خطے میں جغرافیائی توازن کو متاثر کر سکتی ہیں اور اس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔
سینیٹر مارکو روبیو کی جانب سے پیش کیا گیا یہ بل امریکہ کے خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں کا اشارہ ہے اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ اس بل کے ذریعے بھارت کی مدد کے وعدے اور پاکستان کی امداد روکنے کی تجویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں چین اور پاکستان کے اثرات کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ: ابرار احمد