نانگا پربت پر کوہ پیما کلارا کولوچوا لاپتہ، تین روز بعد تلاش کا آپریشن ناکام قرار

گلگت (خصوصی رپورٹ) –پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت پر کوہ پیمائی کے دوران لاپتہ ہونے والی چیک ریپبلک کی 46 سالہ تجربہ کار کوہ پیما کلارا کولوچوا کی تلاش کا عمل تین دن کی مسلسل کوششوں کے بعد ناکام قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے۔ حکومت گلگت بلتستان کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی خطرناک، برفانی اور پیچیدہ جغرافیائی حالات کے باعث ریسکیو مشن کامیاب نہیں ہو سکا۔

ان کے مطابق دو فوجی ہیلی کاپٹروں نے کئی گھنٹوں پر محیط فضائی پروازیں کیں، تاہم کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ریسکیو آپریشن میں شامل سیون سمٹ ٹریکس نامی مہماتی سروس کمپنی کے نمائندے غلام احمد نے بھی آپریشن کے اختتام کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق کلارا کولوچوا کیمپ ون اور کیمپ ٹو کے درمیان تھیں جب ان کا پاؤں پھسلا اور وہ بلند و بالا پہاڑی سے نیچے جا گریں۔ وہ اس وقت اکیلی تھیں اور واقعہ اتنے خطرناک مقام پر پیش آیا کہ فوری رسائی ممکن نہ ہو سکی۔

یاد رہے کہ کلارا کولوچوا نانگا پربت کو سر کرنے کی دوسری کوشش میں مصروف تھیں۔ اس سے قبل 2024 میں وہ اس پہاڑ کو سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں، مگر انہوں نے محض ایک سال بعد پھر سے پاکستان کا رُخ کیا اور اپنی مہم کو جاری رکھا۔

کلارا نہ صرف ایک ماہر کوہ پیما تھیں بلکہ عالمی سطح پر اُنہیں بلند پہاڑوں سے عشق رکھنے والی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کی موت کی خبروں پر دنیا بھر کی کوہ پیمائی برادری میں افسوس اور رنج کی لہر دوڑ گئی ہے۔

نانگا پربت کو ’کِلر ماؤنٹین‘ یعنی ’خونی پہاڑ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ پہاڑ نہ صرف بلندی میں خطرناک ہے بلکہ اس پر موسم کی شدت، برفانی طوفان اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات بھی جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ اس پہاڑ نے ماضی میں بھی کئی جانیں نگلی ہیں، اور اب کلارا کولوچوا کا نام بھی انہی ناقابلِ فراموش قربانیوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

کلارا کی ہمت، جذبہ اور پہاڑوں سے اُن کا عشق ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ چلی گئیں، مگر اُن کا خواب، اُن کا حوصلہ اور اُن کی کہانی آنے والے کوہ پیماؤں کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی۔

۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More