سرکاری ملازمین کے حوالے سےبرطانیہ کی تاریخ میں نا انصافی کا سب سے بڑا اسکینڈل۔ پوسٹ ماسٹرز جو جھوٹے الزامات میں مجرم قرار دے کرجیل بھیجے گئے تھے۔ باعزت بری کر دیئے گئے
نوشین صادق
39 پوسٹ ماسٹرز جو جھوٹے الزامات میں مجرم قرار دے کرجیل بھیجے گئے تھے۔ باعزت بری ہو گئے ہیں۔ کورٹ آف اپیل نے انہیں با عزت بری کر دیا۔یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا نا انصافی کا اسکینڈل ہے۔
ان پوسٹ آفس ورکرز کو جھوٹا چھوری کا فراڈ الزام لگا کر جیل بھیجا گیا تھا۔ حالانکہ پوسٹ آفس کے ہوریزن آئی ٹی سسٹم میں خرابی کی وجہ سے اکاؤنٹس میں پیسہ کم یا زیادہ شو ہو رہاتھا۔
تین بے ججوں بنے اپنا فیصلہ نساتےہوئے کہا کہ پوسٹ ماسٹرز کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ پوست آفس کی کمپنی اور اعلیٰ عہدے داران نے اپنے ملازموں کے ساتھ بہت برا کیا ۔ بجائے ان کا ساتھ دینے کے جب انہیں پتا چلا گیا تھا کہ ان کے کمپیوٹر سافٹ ویئر میں خرابی ہے ۔ انہیں جیل بھیج کر عوام کے کئی ملین پاؤنڈزاس غلطی کو چھپانے کے لئے خرچ کیئے۔
عدالت کے ججوں کے اس فیصلے سے متاثرہ لوگ اور ان کی فیملیز نے بہت خوشی منائی۔ کیونکہ سالوں بعد ان کے نام سے مجرم ہونےکا دھبا اترا تھا۔لوگ کورٹ کے باہر خوشی سے رو رہے تھے۔ کہ آخر کار ان کی معصومیت ثابت ہو گئی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے سے جو لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اور جیل گئے ان کو بڑا معاوضہ ملے گا۔لیکن متاثرین نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی پیسہ ان کی عزت، مشکل وقت، اچھا نام اور جو مشکلات انہوں نے اٹھائی ہیں۔ اس کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ ہم نے بڑی اذیت کی زندگی گذاری ہے۔ پورا معاشرہ ،رشتے دار، ہمیں گناہ گار سمجھتے تھے۔ سب نے تعلق توڑ دیا ۔ ہمارا گھر، بزنس سب کچھ چھن گیا۔
2010 میں 56 سال کی روبینہ شاہین کو غلط الزام لگا کر کہ اس نے چوری کی ہے۔ 12 مہینے کی جیل ہوئی۔ جس کیوجہ سے وہ بے گھر ہوگئی اور اس کا بزنس ڈوب گیا۔ نوویل تھامپسن جسے تقریباً ایک سال کی جیل ہوئی تھی۔نے روتے ہوئے کہا کہ ہم نے بڑی بری زندگی گذاری ہے۔ سب رشتے داروں نے منہ موڑ لیا۔ سارا معاشرہ مجھے چور کہہ کر بلاتا تھا۔ ہماری زندگی جہنم بن گئی تھی۔ آخر کار انصاف ہوا۔
سیما مبشر جسے 2011 میں جیل ہوئی تھی۔اس نے کہا کہ میرا عدالت میں آنا اور فیصلہ سننا بہت ضروری تھا۔جب سیما کو جیل ہوئی تو وہ 8 ہفتے کی پریگننٹ تھی۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے وکیل سے بات کرے گی۔اور پوسٹ آفس کے اعلیٰ عہدے داران پر کیس کرے گی۔اس نے کہا کہ کوئی بھی ہرجانہ اس کی جیل سے اب تک کی مشکلات کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ لیکن ان مجرموں کو سزا ضرور ملنی چاہیئے۔
پوسٹ آفس چیئرمین ٹم پارکر نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہم شرمندہ ہیں۔اور بورس جانسن نے کہا کہ ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیئے۔بعض غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے اثرات لوگوں کی زندگی پر رہتے ہیں۔عدالت کے اس فیصلے سے جو لوگ با عزت بری ہوئے ہیں۔ ان کو بڑا معاوضہ ملے گا۔
متاثرہ لوگوں نے حکومت پر زور دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صرف معاوضے اور باتو ں سے کام نہیں چلے گا۔صحیح سے انکوائری کرکے جو جو لوگ اور اعلیٰ عہدے داران، حکام جنہوں نے اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں معصوم لوگوں کی زندگیاں برباد کیں ۔ کچھ لوگ تو انصاف کے انتظار میں مر گئے۔ ایک نے خود کشی کر لی۔ انہیں کڑی سے ؎کڑی سزا دی جائے۔ اور عدالتو ںاور تحقیقات کرنے والی ایجنسی کے لوگ جو ملوث ہیں۔ ان کو بھی سزا دی جائے۔
۔۔۔۔۔