سیر و سیاحت ۔ سکاٹ لینڈکا سیاحتی شہر ڈنڈی

تحریر: قیصر حبیب، ڈنڈی سکاٹ لینڈ۔

ڈنڈی سکاٹ لینڈکے شمال مشرق میں ساحل سمندر پر واقع ایک خوبصورت اور تاریخی شہر ہے۔ آبادی کے لحاظ سے اس کا شمار سکاٹ لینڈ کے چوتھے بڑے شہر میں ہوتا ہے۔ڈنڈی کو سکاٹ لینڈ کا وسطی شہر ہونے کے ناطہ ایک گھنٹہ تیس منٹ کی مصاحفت سے کسی بھی شہر پہنچا جاسکتا ہے۔ اس تاریخی شہر کو (Three Js) سے بھی جانا جاتا تھا یعنی جے فار جام، جافار جیوٹ اور جے فار جرنلزم۔2011,کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی تقریباََ ایک لاکھ اڑتالیس ہزار ہے جس میں کافی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ آبادی کا تقریباََ ۱یک سے دو فیصد حصہ دوسری اقلیتی کیمونٹی پر شامل ہے۔ جس میں پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہاں بولی جانے والی زبان سکاٹش لہجے میں انگلش ہے اورلوکل ڈنڈونین لہجے کا استعمال بھی عام ہے۔ نہایت ہی دلذیب ٹرین اسٹیشن، انٹرنیشنل ائرپورٹ اور کروز پورٹ ڈنڈی کو پوری دنیا سے ملاتا ہے۔ سیروسیاحت کے حوالے سے یہاں دنیا کا سب سے پرانا جہاز(فرائی گیٹ یونی کارن)، ڈسکوری پوائنٹ، سکاٹ لینڈ جیوٹ میوزیم،میک مینس میوزیم، سائنس سنٹر، مل آبزرویٹری، ڈنڈی لاء، براٹی فیری کاسل، اورحال میں ہی ایک بیلین پاونڈکی لاگت سے تعمیر کیا جانے والا سکاٹ لینڈ کا پہلا ڈیزائن میوزیم وی اینڈ اے قابل ستائش ہیں۔ سمند ر پر واقع ٹے روڈ بریج اور ٹرین بریج جو کہ تقریباََ اڑھائی ہزار میٹرطویل ہے ملحقہ شہروں کو آپس میں ملاتا ہے۔ دو بڑے شاپنگ سنٹر اوورگیٹ اور ویل گیٹ خریداروں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ ڈنڈی یونیورسٹی اور آبرٹے یونیورسٹی جو کہ نہ صرف مقامی بلکہ پوری دنیا سے آنے والے طلبا کو بہترین اور معیاری تعلیم فراہم کرنے میں سرگرداں ہیں۔ برطانیہ میں سب سے زیادہ طالب علم کی تناسب ڈنڈی میں ہوتی ہے۔ خصوصی طور پر گلوبل ویڈیو گیمنگ اور میڈیکل کورسز انفرادیت کے حامل ہیں۔ طلباء کا کثیر تعداد ہر سال یہاں سے تعلیم حاصل کرکے دنیا زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اپنا لوہا منواررہے ہیں۔ نائن ویل ہسپتال و میڈیکل ریسرچ سنٹر جو کہ ہر لحاظ سے دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور تحقیق سے مزین ہے۔جہاں ہر طرح کے امراض کی تشخیص اور علاج فراہم کیا جاتا ہے۔اور NHSکی جانب سے مکمل طور پر فری prescription فراہم کی جاتی ہے۔ دوسرے شہروں کی طرح دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے اور چاہنے والے کھیل فٹ بال کے شائقین کی اس شہر میں موجود ہیں۔ دو پروفیشنل فٹ بال ٹیم ڈنڈی یونایٹڈفٹ بال کلب اور ڈنڈی فٹ بال کلب کے شایقین اپنی اپنی ٹیموں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ گالفنگ بھی یہاں کا پسندیدہ کھیل جانا جاتا ہے اور صرف ڈنڈی میں پانچ مشہور گالف کورس ہیں۔ جہاں دنیا بھرسے لوگ گالفنگ کے لئے آتے ہیں۔ ڈنڈی انٹرنیشنل سپورٹس سنٹر سالانہ مختلف کھیلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ سیاسی حوالے کی روشنی میں لوگوں کا زیادہ تر رجحان اور تعلق سکاٹ لینڈ کے برسراقتدار آزادی پسند پارٹی سکاٹش نیشنل پارٹی سے ہے۔ جو کہ برطانیہ کا موجو دہ بریگزٹ بل کی سخت مخالفت کرتی رہی ہے۔ مشہور زمانہ مچلن فیکٹری بھی اسی شہر میں موجود تھی جو کہ اب ناگزیر وجوہات کی بنا پر بندہے، اس شہر کی سوغات میں سٹرابری اور سمندری مچھلی قابل ذکرہے۔ اس شہر میں لوکل ایتھنک کیمونٹی کو بہت عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے باخوبی لگا یا جاسکتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کیلئے پانچ مساجد، سنٹرل مسجد، المخطوم مسجد، تاجدار مدینہ مسجد، بلال مسجد اور زکریا مسجد شامل ہیں۔مسلمانوں کے لئے دو علیحدہ قبرستان۔ ہندوں کے لئے مندر اور سکھوں کے لئے گرجا گھر اور دیگر مذاہب کے لئے ان کے کلچر اور عبادات کے سے متعلقہ سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔پاکستانی جہاں پوری دنیا میں اپنی قابلیت اور انتھک محنت سے اپنے آپ کو منواتے ہیں یہاں پر بھی سیاسی حوالے سے محمد آصف سابقہ کونسلر ڈنڈی نے عرصہ دراز سے اپنی خدمات سرانجا م دیں۔ ان کی مسلم کیمونٹی کے لئے علیحدہ قبرستان کا قیام قابل ستائیش ہے۔ موجودہ ڈنڈی شیرف کورٹ کا اعزاز بھی پاکستان نژادخاتون کو جاتا ہے۔ کاروباری حوالے سے زیادہ تر لوکل مشہور ریسٹورانٹ، ٹیک اویز، شاپ،اور ٹرانسپورٹ بھی پاکستانی افراد کی ملکیت ہیں۔ پاکستانی سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیات کا تعلق بھی اسی شہرسے ہے۔ ڈنڈی ایک پر سکون پر فضا اور مہمان نواز شہر ہے۔ جس کے شہری بلا امتیاز بغیر کسی رنگ و نسل ایک دوسرے سے محبت اور احساس کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More