وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں نے 25 برس سزا پانے والے پاکستانی مزدور کی زندگی بدل دی
سعودیہ میں منشیات کیس میں سزا کاٹنے والے ولی محمد کی آدھی سزا معاف ہو گئی، اپنی گاڑی میں پاکستانی اسمگلروں کو لفٹ دینا مہنگا پڑ گیا تھا
سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ولی محمد کی ایک نیکی نے اس کی زندگی کے 12 قیمتی سال ضائع کر دیئے ۔ بس اس نے اتنا کیا تھا کہ سعودیہ میں چند پاکستانیوں کو اپنی گاڑی میں لفٹ دی تھی، جو منشیات کے اسمگلر تھے۔ بس اسی غلطی نے اسے پچیس سال سزا دلوا دی، تاہم وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سعودی جیل میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے جو لگاتار کوششیں کی گئیں، ان کے نتیجے میں ولی محمد کی آدھی سزا معاف کر دی گئی ہے۔
سعودیہ میں منشیات کے مقدمے میں 25 برس کی سزا پانے والے پاکستانی مزدور کا کہنا ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد گھر واپس پہنچ کر انہیں نئے سرے سے زندگی ملی ہے۔خیبرپختونخوا کے ضلع اپر دیر سے تعلق رکھنے والے ولی محمد سعودی جیل میں 12 برس گزارنے کے بعد ملنے والی معافی کے تحت گذشتہ ہفتے اپنے گھر پہنچے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے اہل خانہ کو ملنے کی امید ختم کر چکا تھا، البتہ اب مجھے نئی زندگی ملی ہے جس کے باعث ہم سب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے لیے دعاگو ہیں، انہی کی وجہ سے آج میں ایک آزاد فرد کے طور پر اپنے عزیزوں میں موجود ہوں۔
ولی محمد کا کہنا ہے کہ ’2007 میں ورک ویزہ پر سعودی عرب پہنچنے کے بعد انہوں نے ٹیکسی چلانے سمیت متعدد ملازمتیں کیں۔‘انہوں نے بتایا کہ ’مجھے 2009 میں پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب میں نے ریاض پہنچنے والے تین پاکستانی مسافروں کو اپنی گاڑی میں سوار کیا۔ پولیس نے ان میں سے ایک سے کچھ کیپسول برآمد کیے تھے۔‘’قانونی کارروائی کے دوران مجھے ایک اور مسافر کے ہمراہ 25 برس کی سزا دی گئی جب کہ دیگر دو کو موت کی سزا دے دی گئی تھی۔
‘ولی محمد کے مطابق ’دو ہفتے قبل جیل میں پاکستانی قیدیوں کو بتایا گیا کہ وہ رہا کیے جا رہے ہیں اور انہیں کسی اور مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد انہیں رات گئے جیل سے گاڑی کے ذریعے جدہ ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔’لاہور کی فلائٹ پر سوار ہونے سے قبل ہمیں اپنی آئندہ منزل کا علم نہیں تھا۔ ایسے میں اپنے ملک پہنچنے کے بعد مجھے جو خوشی ہوئی میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔
‘فروری 2019 میں دورہ پاکستان کے دوران سعودی ولی عہد نے مملکت کی جیلوں سے تقریباً 2100 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔ولی محمد کے مطابق ’ان کی چار بیٹیاں ہیں جو اب خاصی بڑی ہو چکی ہیں۔ مجھے دس ماہ قبل انتقال کر جانے والی والدہ سے نہ مل سکنے کا افسوس ہے۔میں جب بھی جیل سے گھر فون کرتا تو والدہ ہر مرتبہ پوچھتیں کہ میں کب واپس آوٴں گا؟ انہیں تسلی دینے کے لیے میں کہہ دیتا تھا کہ جیسے ہی بین الاقوامی پروازوں سے پابندی اٹھائی جائے گئی میں لوٹ آوٴں گا۔
ولی محمد کے عزیز ابراہیم خان کے مطابق ’جب وہ واپس پہنچے تو پورا گاوٴں انہیں مبارک باد دینے آگیا تھا۔’ان کی وایسی کے بعد روزانہ پانچ تا دس مہمان ہمارے گھر آرہے ہیں جو ان سے ملنا اور مبارک باد دینا چاہتے ہیں۔‘سیاحوں میں مقبول دیر میں اپنے گاوٴں اشیرائی درہ پہنچنے کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے ولی محمد کا کہنا تھا کہ ’جن بچوں کو 2007 میں آخری مرتبہ دیکھا تھا، اب گھر پہنچا تو وہ لڑکپن کی حد میں داخل ہو چکے تھے۔‘ان کے مطابق ’مجھے امید ہے کہ سعودی جیلوں میں موجود دیگر پاکستانی قیدی بھی جلد رہا کر دیے جائیں گے‘۔