تحریر و تحقیق: رانا راشد محمود
یہ مذہب کے نام پر گورکھ دھندہ کرنے والوں کی کہانی ہے شاہ دولہ کے مزار کے بارے میں یہ عقیدہ رائج کردیا گیا تھا کہ یہاں منت ماننے کے بعد اگر بچہ ہوتا ہے تو پہلا بچہ شاہ دولہ کا چوہا ہے اور اس کا سر چھوٹا ہوگا لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس کا سر نارمل ہوتا ہے جیسے دوسرے بچوں کا سر ہوتا ہے اس میں کوئی چیز کم یا زیادہ نہیں ہوتی جہالت اور اندھے اعتقاد کی وجہ سے انسانیت کی تذلیل کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے اچھے بھلے بچوں کو شاہ دولہ کے مزار پر معذور بنایا جاتا ہے اور آج بھی شاہ دولہ کے مزار پر دس ہزار کے لگ بھگ دولے شاہ کے چوہے موجود ہیں اور سینکڑوں ہٹے کٹے صحت مند نوجوان ان کی کمائی کھا رہے ہیں لیکن ایسے ترقی یافتہ دور میں حکومت کوئی نوٹس نہیں لیتی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک نارمل بچے کی زندگی برباد کر دی جاتی ہے اور آئندہ بھی حکومت سے ایسی کوئی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ انسانیت کی تذلیل کا دھندہ بند کروا سکے۔
شاہ دولہ کے مزار کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ جو خاندان بے اولاد ہوتا ہے یا اس کی اولاد مر جاتی ہے تو وہ مزار پر منت مانتا ہے اور اس کی مراد پوری ہونے کی صورت میں وہ پہلی اولاد مزار پر موجود افراد کے حوالے کردیتا ہے کہا جاتا ہے کہ شاہ دولہ کے مزار پر منت ماننے والوں کے ہاں جو پہلا بچہ یا بچی پیدا ہوتا ہے وہ ذہنی طور پر معذور ہوتی ہے اور منت پوری ہونے کے بعد اگر وہ اپنی اولاد کو اس مزار کی نظر نہ کرے تو پھر ساری عمر اس عورت کے ہاں ایسے ہی بچے پیدا ہوتے ہیں جبکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے جو والدین کم علمی یا کمزور عقیدے کے سبب اپنے بچوں کو بطور عقیدت مزار پر موجود بھکاری مافیا کے حوالے کر دیتے ہیں وہ ایسے بچوں کے سروں پر ایک مخصوص ٹوپی نما شکنجہ ” لوہے کی ٹوپی ” ان کے سر پر چڑھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے سروں کی نشوونما رک جاتی ہے بلکہ ان کی دماغی اور جسمانی صلاحیت بھی کمزور ہو جاتی ہے اور پھر یہ بچے رفتہ رفتہ ذہنی طور پر معذور ہو جاتے ہیں اب ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے بھیک مانگنا بھیک مانگتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں اور بھیک مانگ کر وہاں پر موجود ہٹے کٹے مجاوروں کو پیسے دیتے ہیں اگر تو اس میں کوئی صداقت ہو تو بچے معذور ہی پیدا ہونے چاہیے ان کا سر خدا کی طرف سے ہی چھوٹا ہونا چاہیے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں شاہ دولہ کے مزار پر آج بھی ایسے بچوں کی کثرت سے موجودگی یہ بات ثابت کرتی ہے کہ بھکاری آقاؤں کے ہاتھوں نہ صرف یہ کاروبار عروج پر ہے بلکہ انہوں نے اس حوالے سے توہمات کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے پاکستان میں بھکاری مافیا شاہ دولہ کے چوہوں کا استحصال کرتے ہوئے نہ صرف ان سے شہر شہر گاؤں گاؤں بھیک منگواتے ہیں بلکہ پیشہ ور بھکاری ان بچوں کو ماہانہ ٹھیکے پر بھی لے جاتے ہیں دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان کا باقاعدہ کنٹریکٹ ہوتا ہے اور پھر جب کنٹریکٹ کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو انہیں واپس دربار پر چھوڑ دیا جاتا ہے اس طرح ملک کے کونے کونے میں یہ بچے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں یہ انسانیت سے گری ہوئی مافیا ان معصوم بچوں اور بچیوں کا ساری عمر معاشی اور جنسی استحصال کرتی ہے حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ معصوم بچے اور بچیوں کا معاشی اور جنسی استحصال بند کروا جائے


