
یورپ و امریکہ سمیت دنیا بھر میں کرونا وائرس کا جن بے قابو ۔ 62000 سے زائد جانیں لے گیا
دنیا بھر سے کووڈ۔19کے کل مصدقہ کیسز کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر گئی امریکہ سرفہرست، اٹلی کا دوسرا نمبر
برطانیہ میں اب تک کل 42ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص جبکہ 4500 سے زائدجان کی بازی ہار گئے،پاکستان میں 2800کیسز رپورٹ41 جاں بحق
برطانوی وزیراعظم،وزیرصحت اورشہزادہ چارلس،سپین کے ڈپٹی وزیراعظم،امریکی سینیٹراور کینڈین خاتون اول سمیت کئی ہائی پرفائل شخصیات بھی کرونا وائرس کا شکار
چند ماہ پہلے چین سے شروع ہونے والے کرونا وائرس نے 80ہزار چینیوں کو کووڈ۔19نامی بیماری میں مبتلا کیاپھرایران کا رخ کیا اور ہزاروں لوگ اس کا شکار بنے،پھر اس نے ایشیا سے یورپ کا رخ کیا اور پورے یورپ بالخصوص اٹلی، سپین، جرمنی، فرانس، برطانیہ، سوئٹزرلینڈاور نیڈرلینڈ کو ایک طوفان کی طرح لپیٹ میں لے لیا۔ کرونا وائرس کا یہ طوفان ابھی یورپ کو بُری طرح جکڑ رہا تھا کہ امریکہ، کینڈا، آسٹریلیا بھی اس مہلک وائرس کا شکار ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کے 198ممالک میں 10 لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جس سے 58 ہزار سے زائد انسان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعدادتقریباََ سوا دو لاکھ ہے، اس طرح ایکٹو کیسز کی تعداد 8لاکھ سے زیادہ ہے۔اس وبائی مرض کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا سلسہ شروع ہوا، تعلیمی ادارے بند ہوئے،معیشتوں کو پہیا جام ہو گیااور خوف و ہراس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چین میں تواب اس کی شدت ماند پڑنے لگی ہے اور کل 81 ہزار متاثرہ افراد میں سے 76 ہزار سے زائد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 3300 اموات اورتقریباََ 1700 موجودہ کیسز ہیں۔ کووڈ۔19 کے متاثرین میں اس وقت امریکہ سرفہرست ہے جہاں متاثرین کی تعدادمیں نہایت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرین کی تعداد پونے تین لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ اموات 7000 سے تجاوز کرگئی ہیں۔دوسرے نمبر پر اٹلی جہاں 1لاکھ 20ہزار متاثرین اور 15ہزار اموات ہوئیں۔ اٹلی میں سب سے تشویشناک بات وہاں شرح اموات12فیصدہے جو کہ باقی ممالک (چین 4فیصد، امریکہ 2.55فیصد، ایران 6فیصد،برطانیہ 9 فیصد، پاکستان 1.5 فیصد)کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔جبکہ دنیا بھر میں مرنے والوں کی اوسط شرح 5.37 فیصد ہے۔
برطانیہ میں اب تک کووڈ۔19 کے کل 38ہزارسے زائد مصدقہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 3600سے زائد جان کی بازی ہار بیٹھے اور 135صحت یاب ہوئے۔پاکستان میں مصدقہ کیسز کی تعداد 2600 سے زائد ہے جبکہ 40افراد موت کی آغوش میں چلے گئے۔ بھارت میں 2600کیسز جبکہ72 اموات رپورٹ ہوئیں۔ پاکستان اور بھارت کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ ٹیسٹنگ کی رفتار کا نہایت سست ہونا ہے۔20 کروڑ کی آبادی والے ملک پاکستان میں اب تک صرف ساڑھے 6ہزار افراد کی ٹیسٹنگ ہوئی۔لہذا اس بات کا خدشہ ہے کہ جن کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا ان میں کئی افراد کرونا وائرس کے متاثرین ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفر مرزانے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے 12 ہزار سے زیادہ مشتبہ کیسز ہیں۔
کرونا وائرس سے ڈاکٹر اور نرسز بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ دنیا میں اس سے پہلے بھی 1918اور 1969میں عالمی سطح کی وبائیں آچکی ہیں لیکن دنیا نے ان وباؤں سے کچھ نہ سیکھا اور آئندہ کے لئے ایسی وباؤں سے نمٹنے کے لئے کوئی پالیسی نہیں بنائی۔کرونا وائرس سے پھیلنے والی اس مہلک وبا سے سبق سیکھتے ہوئے دنیا کو متحد ہو آئندہ نسلوں کو ایسی وباؤں سے بچانے کے لئے اقدامات کرنے چاہیے۔