پرنس فلپ: ملکہ برطانیہ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا 99 برس کی عمر میں وفات پا گئے
بکنگھم پیلس نے اعلان کیا ہے کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر پرنس فلپ 99 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔
بکنگھم پیلس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’انتہائی افسوس کے ساتھ ملکہ برطانیہ کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ان کے ہردلعزیز شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ وفات پا گئے ہیں۔‘
بیان کے مطابق شہزادہ فلپ کی وفات جمعہ کی صبح ونڈزر کاسل میں ہوئی۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ شہزادہ فلپ لاتعداد نوجوانوں کے لیے ایک مثال تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شاہی خاندان اور شہنشاہیت کو چلانے میں مدد دی تاکہ وہ ایک ایسا ادارہ بنا رہے جو کہ ہماری قومی زندگی کے توازن اور خوشی کے لیے بلاشک و شبہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کا کہنا تھا کہ وہ ڈیوک کی وفات پر ’افسردہ‘ ہیں۔
انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’میں بذاتِ خود، سکاٹ لینڈ کی حکومت اور سکاٹ لینڈ کے لوگوں کی جانب سے ملکہ برطانیہ اور ان کے خاندان سے انتہائی گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔‘
10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ جب انھیں ڈیوک کی وفات کی خبر ملی تو انھیں ’شدید افسوس ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شہزادہ فلپ نے برطانیہ کی کئی نسلوں، پورے کامن ویلتھ اور پوری دنیا سے محبت سمیٹی۔‘
بورس جانسن نے اس سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والے شاہی جوڑے میں ڈیوک کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یہ بھی یاد کیا کہ شہزادہ فلپ دوسری عالمی جنگ میں لڑنے والے ان آخری افراد میں سے تھے جو اب تک زندہ رہے۔
جانسن کا کہنا تھا کہ ’اس تنازع سے انھوں نے خدمت کرنے کا جذبہ سیکھا جس کا اطلاق انھوں نے جنگ کے بعد کے زمانے میں کیا۔‘
آرچ بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبائے نے کہا ہے کہ ’انھوں (پرنس فلپ) نے ہمیشہ دوسروں کے مفادات کو اپنے پر ترجیح دی، اور ایسا کرتے ہوئے، مسیحی اقدار کی بہترین مثال پیش کی۔‘