اس خانہ خراب کا سارانظام خود غرضی پہ چلتا ہے
جسم ذہن کی خرافات اور من کی مرضی پہ چلتا ہے
تکمیلِ احکامِ خداوندی سے بدن گریزاں نظر آتے ہیں
یہی اِک اکیلی وجہ ہے کہ لوگ پریشاں نظر آتے ہیں
میرا جسم میری مرضی کا اک نعرہ چل رہا ہے
یہ پسِ پردہ طاغوتی قوتوں کا اشارا چل رہا ہے
پھیلائیں گےشہوت و بے حیائی ، عریانی و ننگ
مارے جائیں گے شرم و حیا ، یہ ہے ایسی جنگ
انسانی کوئی مخلوق ہو ، یا پھر مادی کوئی ایجاد
متعین اصولوں پہ نہ چلے تو ، ہوجائے گی برباد
میرے جسم پہ میری مرضی ، چل کیسے ہے سکتی
میں ہمیشہ زندہ رہ سکتا تھا ، ہوتی کتنی خوش بختی
وزن ہی کم کرلیتا میں اور سفید نہ ہوتے بال
کمر جو سیدھی رہتی تو پھر سیدھی رہتی چال
سر درد نہ ہوتا کبھی بھی بخار نہ چڑھتا مجھکو
بیہودہ نظریات کا کوئی خمار نہ چڑھتا مجھکو
تنتر منتر سے بچ جاتا میں کوئی جاپ نہ کرنا پڑتا
مجھکو راتوں کو اٹھ اٹھ کے پیشاب نہ کرنا پڑتا
کتنا بھی پریشان ہوتا ، چاہے ہوتا چینی کا خوگر
بلڈ پریشر میرے پاس پھٹکتا نہ ہوتی مجھکو شوگر
اِس مرض، اُس مرض کی میں کھاتا کبھی نہ پڑیاں
میرے چہرے کی رونق کو ختم نہ کرتی جھریاں
ع عام گلاسگو
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.