ایران کا دو ٹوک اعلان: اگر یورینیم افزودگی روکنے پر اصرار ہوا تو مذاکرات نہیں ہوں گے

امریکا کی نئی شرائط کو مسترد، ایران نے جوہری توانائی کے پرامن حق سے دستبرداری سے انکار کر دیا

رپورٹ: نمائندہ روزنامہ ستون | پیر، 15 جولائی 2025

تہران – ایران نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر امریکہ نے آئندہ جوہری مذاکرات میں یورینیم افزودگی بند کرنے کو شرط بنایا، تو ایسے مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔ ایرانی قیادت نے اس پوزیشن کو “قومی خودمختاری” سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے پرامن جوہری حق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر ڈاکٹر علی ولایتی نے سرکاری خبر رساں ادارے IRNA سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

“اگر مذاکرات کی شرط یہ ہے کہ ایران یورینیم افزودگی بند کرے، تو ایسے مذاکرات کا کوئی مطلب نہیں۔ یہ ایران کی خودمختاری اور ٹیکنالوجیکل ترقی کے حق کے خلاف ہے۔” واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر متعدد بار مذاکرات ہو چکے ہیں، لیکن اسرائیلی حملوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث یہ عمل بارہا تعطل کا شکار رہا۔ رواں سال اپریل سے دونوں ممالک پانچ مرتبہ براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھے، مگر کسی جامع معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران دونوں نے بات چیت کی بحالی کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ: “فی الحال امریکا سے کسی بھی ملاقات کا نہ وقت طے ہوا ہے، نہ مقام۔”   امریکی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن ایران کو کم سطح پر افزودگی کی اجازت دینے اور کچھ نئی حدود کے ساتھ مذاکرات کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم ایران کا مؤقف یہ ہے کہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی اس کا قانونی اور سائنسی حق ہے، جسے وہ آئی اے ای اے (IAEA) کے دائرہ کار میں استعمال کرتا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق، ممکنہ ملاقات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان متوقع تھی، جو کہ اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

2018   سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی، جس کے بعد سے ایران نے افزودگی کی سطح میں اضافہ کیا اور امریکہ نے شدید پابندیاں نافذ کیں۔ اب، جو بائیڈن انتظامیہ کی واپسی اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا سخت شرائط کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا تو ایران کی شمولیت محدود ہو سکتی ہے۔ ایران کا مؤقف علاقائی خودمختاری کے ساتھ ساتھ جوہری خودکفالت سے بھی جڑا ہوا ہے، جس میں وہ کسی بیرونی دباؤ کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More