
پینے کے لیئے پانی کی تلاش میں بیٹے کی شہادت، غزہ کے باپ کی اسرائیلی حملے پر دہائی
نصیرات کیمپ میں پانی لینے گئے بچوں پر اسرائیلی بمباری، چھ بچوں سمیت 10 فلسطینی شہید، والد کا اقوام عالم سے جنگ روکنے کا مطالبہ
غزہ/یروشلم – 14 جولائی 2025 | رپورٹ: روزنامہ ستون
ایک باپ کا دل چیر دینے والا نوحہ… ’’میرا بیٹا صرف پانی کا گھونٹ لینے گیا تھا، پیاسا تھا، اور شہید ہو گیا‘‘۔ غزہ کے وسطی علاقے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں اتوار کی صبح اسرائیلی فضائی حملے میں چھ بچوں سمیت 10 فلسطینی شہید ہو گئے۔ ان میں عبداللہ محمود عبد الرحمن احمد بھی شامل تھا جو پانی کے کنٹینر لے کر صبح کے وقت معمول کے مطابق ایک پانی کی تقسیم کے مرکز پر گیا تھا۔
عبداللہ کے والد، محمود عبد الرحمن احمد نے میڈیا کو بتایا: ’’میرے بیٹے اور دیگر بچوں کے پاس صرف خالی کنٹینر اور پیاسی آنکھیں تھیں، جب اچانک جنگی جہاز آئے اور بم گرا دیا… بغیر کسی تنبیہ کے۔‘‘
جائے وقوعہ سے ویڈیو فوٹیج میں زرد پلاسٹک کے کنٹینر، ملبے کے نیچے دبی لاشیں، زخمی افراد اور بین کرتی عورتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
العودہ اسپتال کے مطابق، 10 افراد شہید اور 16 زخمی ہوئے، جن میں اکثریت بچے تھے۔ شہید ہونے والے دیگر بچوں میں بدر الدین قرمان، سراج خالد ابراہیم، ابراہیم اشرف ابو ریبان، کرم اشرف الغصین، اور لانا اشرف الغصین شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہدف ایک اسلامک جہاد کا جنگجو تھا، لیکن ’’تکنیکی خرابی‘‘ کے باعث میزائل ہدف سے کئی میٹر دور گرا۔ ترجمان نے کہا: ’’ہم غیر متعلقہ شہریوں کو نقصان پہنچانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں۔‘‘
لیکن محمود احمد نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’’یہ بمباری ایک پیغام تھی کہ اسرائیل ہمیں پانی بھی نہیں لینے دے گا۔ یہ ہمارے بچوں کے خواب قتل کرنے کی جنگ ہے۔‘‘
اقوامِ متحدہ کے مطابق، غزہ میں پانی کی قلت خطرناک حدوں کو چھو چکی ہے۔ جنگ، محاصرے، اور ایندھن کی کمی کے باعث روزانہ لاکھوں افراد کو 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو کہ “ایمرجنسی معیار” سے بھی نیچے ہے۔UNRWA کے قائم مقام ڈائریکٹر، سیم روز نے کہا: ’’یہ واقعہ ایک علامت ہے، ایک ایسی جنگ کی تصویر جس میں روزانہ ایک کلاس روم بھر کے بچے مارے جا رہے ہیں۔‘‘ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے اسے ’’ہولناک‘‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج سے ’’بین الاقوامی انسانی قوانین‘‘ کی پابندی کا مطالبہ کیا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ جمعرات کو دیر البلح میں غذائی امداد کی قطار میں کھڑے 10 بچوں اور 3 خواتین کو اسرائیلی حملے میں شہید کر دیا گیا۔ دونوں واقعات میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ’’دہشت گردوں‘‘ کو نشانہ بنا رہا تھا۔
انسانی حقوق کے ادارے سوال کر رہے ہیں: ’’کیا ہر بار “غلطی” کی قیمت بچوں کی لاشیں ہوں گی؟‘‘
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل رواں ہفتے غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں پر ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔ برطانیہ نے اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے، لیکن اسرائیل کے مستقل نمائندے ڈینی ڈینن کا دعویٰ ہے کہ بچوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس ہے، جو انہیں ’’انسانی ڈھال‘‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
محمود احمد کا بیان غزہ کی عوام کا اجتماعی نوحہ بن گیا ہے ’’ہم نہ ایٹم بم رکھتے ہیں، نہ ہتھیار… ہم صرف زندہ رہنے کا حق مانگتے ہیں۔ یہ قتل عام بند ہونا چاہیے۔‘‘
جنگ کے 21 ماہ بعد بھی غزہ کی گلیاں لاشوں سے بھری ہیں، اور دنیا ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائی کہ بچوں کی جانیں زیادہ قیمتی ہیں یا جیو پولیٹکس کی پالیسیاں۔