مسلمان اور اسکاٹ لینڈ ۔ تحریر رانا راشد محمود

پہلا مسلمان جس نے اسکاٹ لینڈ کی سرزمین پر قدم رکھا اس کا نام وزیر بیگ تھا۔ وہ میڈیکل کے طالب علم تھے اور ان کا اندراج میڈیکل کے طالب علم کے طور پر رجسٹرڈ ہے انہوں نے 1858 اور 1859 کے سال میں ایڈنبرا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ مینوفیکچرنگ اور گلاسگو کی مصروف ترین بندرگاہ نہ ہو نے کی وجہ سے بہت سے لاسکرز ان شہروں میں ملازم تھے۔لاسکرز کا مطلب وہ لوگ جو کہ پاک انڈو کے ریجن سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا کام بحری جہازوں کے ڈیک کی صفائی ستھرائی اور پینٹنگ وغیرہ تھی۔ اسکاٹ لینڈ کا شہر ڈنڈی( Dundee) جیوٹ ( jute) کی در آمد کی وجہ سے کافی مصروف بندرگاہ تھی۔جہاں پر بنگال سے آنے والے کافی ملاح بھی شامل تھے۔ گلاسگو کے سیلز ہوم کے ریکارڈ کے مطابق پتہ چلتا ہے کہ 1903 میں لگ بھگ ایک تہائی مسلم لاس کارز(lascsrs) تھے۔ تاہم مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا اسکاٹ لینڈ میں ہجرت کو حال ہی میں بتایا جاتا ہے اسکاٹش مسلمانوں کے خاندانوں کے لوگ بیسویں صدی کے آخر میں ہجرت کر کے آئے تھے۔2001 کے اعداد و شمار کے مطابق مسلمان سکاٹ لینڈ کی آبادی کا صرف9 ۰ فیصد تھے یعنی( ِ 557 42) نمائندگی کرتے تھے ۔ جس میں سے صرف گلاسگو میں 30 ہزار کے لگ بھگ تھے۔ 2011 کے اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی بڑھ کر 76 ہزار 736 ہو گئی تھی۔ جو کہ سکاٹ لینڈ کی آبادی کا 1.5 فیصد بنتا ہے ۔ زیادہ افراد کی تعداد پاکستانی اوریجن سے تعلق رکھتی تھی جو کہ 58 فیصد ہیں۔ اس کے بعد عرب مسلمانوں کی تعداد آتی ہے جو کہ 8 7۰ فیصد ہیں۔ اس کے بعد یورپی یونین اور فریقین مسلمان ہوتے ہیں ۔ گلاسگو جو کہ سکاٹ لینڈ کا سب سے بڑا شہر ہے اس میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 2011 کے اعداد و شمار کے مطابق تقریبا پانچ فیصد پر مبنی ہے۔ مسلم کونسل اسکاٹ لینڈ کے ریکارڈ کے مطابق تقریبا نوے کے قریب مساجد پورے سکاٹ لینڈ میں ہیں ۔ ان میں وہ بھی عبادت خانے شامل ہیں جو کہ چھوٹے سائز کے فلیٹ لے کر بنائے گئے ہیں اور وہ بھی جن کی سرے سے تعمیر صرف مسجد کے طور پر ہوئی ہے ۔ گلاسکو میں پہلی مسجد 1944 اکسفورڈ سٹریٹ میں بنائی گئی اور تدفین کے لیے سینڈی ماونٹ قبرستان میں جگہ الاٹ کی گئی ۔ اس کے بعد انیس سو باسٹھ میں ایڈنبرا جوکہ کیپیٹل ہے اسکاٹ لینڈ میں پہلی مسجدکےدروازوںکو نمازیوں کے لئے کھولا گیا ۔ یہ سکاٹش مسلمانوں کے لئے دوسری مسجد تھی جس کا دروازہ ان کے لیے کھولا گیا تھا۔ یہاں پر مساجد کی ایک بڑی تعداد کو یونیورسٹی اسلامک سوسائٹی اور مسلم کمیونٹی سینٹرز کے تحت چلایا گیا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو مسلمانوں کی بڑی تعداد کا کردار سکاٹش زندگی میں نظر آتا ہے پاکستان پنجاب کے ڈویژن فیصل آباد کی ایک بڑی تعداد گلاسکو جیسے بڑے شہر میں آباد ہے۔ ان میں سے کافی حضرات نے اپنی محنت و مشقت سے یہاں کے معاشرے میں ایک بہت اہم مقام حاصل کیا ہے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد خاص کر کے پاکستانی یہاں زندگی کے ہر فورم میں نظر آتے ہیں چاہے وہ سپر سٹور کے بزنس میں ہوں یا پھر ریستورانوں کے کاروبار میں۔ اسکاٹ لینڈ میں بسنے والے مسلمانوں نے اپنی انتھک محنت سے جو مقام حاصل کیا ہے وہ باقی یورپی مسلمانوں کے لئے ایک مثال ہے۔ ان میں آپ کو ایسے بہت سے پاکستانی ملتے ہیں جو کہ یہاں کی سیاسی و سماجی زندگی میں ایک خاص مقام کے حامل ہیں ۔ جنہوں نے یہاں کے معاشرے میں اپنی جگہ بنائی اور دیگر پاکستانیوں کےلئے ایک مثال بنے۔ ان نمایاں شخصیات کا کامیاب سفر اسکاٹ لینڈ میں سیاسی ممکنات سے فائدہ اٹھانے کی بہترین مثال ہے۔ مسلمانوں کے پہلے وزیر اور عظیم شخصیت کے مالک محمد سرور برطانیہ کے پہلے مسلم پارلیمنٹ رکن تھے جو کہ 1997 گلاسکو میں منتخب ہوئے سب سے نمایاں شخصیت کے مالک اور گلاسگو ہی سےپہلے مسلم سٹی کونسلر جناب بشیر مان صاحب تھے جو انیس سو ستر کی دہائی میں منتخب ہوئے اس کے بعد 2007 میں پہلے نسلی اقلیتی ایم ایس پی مرحوم بشیر احمد تھے۔ انیس سو تیتیس کی دہائی میں پہلی مسلمان عورت جس کا نام زینب تھا کو فریضہ حج کے لئے اجازت دی گئ انسانی اور معاشرتی بہبود کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام اراکین اور طبقوں کی صحت عمر جنس اورصنف کسی قسم کی معذور ی نسل عقیدے یا کسی اور طرح کی خصوصیات سے قطع نظر زیادہ سے زیادہ اہم ہو۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب وہ معاشرہ کسی بھی نسلی اور مذہبی گروہوں کے مابین صحت کے نتائج میں خاطرخواہ اور مستقل طور پر اختلافات رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان معاملات کو سلجھانے کے بعد وہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ یہ وہ سارے عناصر ہیں جس کو ہم کہہ سکتےہیں کہ خطہ کی ترقی کا راز ہیں۔ اور وہ یہ مواقع ہیں جو کہ مسلمانوں کو زمین کے اس حصے میں ملے ہیں۔ اور یہاں بسنے والے مسلمانوںنے ان سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More