بائیو میٹرک سسٹم اور اوورسیز پاکستانی
ندیم عظمت
سٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے یکم جولائی 2019 سے پاکستان کی تمام بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام اکاونٹ ہولڈرز کے بائیوں میٹرک سسٹم کے تحت فنگر پرنٹس لیں ۔ اور اس کو دسمبر تک مکمل کریں اس کے بعد بائیوں میٹرک نا کروانے والے اکاونٹس کو بند کر دیا جائے گا گورنمنٹ کا گو کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے اس سے اکاونٹ ہولڈرز کے اکاونٹس مزید محفوظ ہونگے کوئ اور ان میں دخل اندازی نہیں کر سکے گا اور جتنی بھی ٹرانزیکشن ہو نگی وہ سب پتا چل جائیں گی۔ معزز قارئین بہت سارے اوورسیز پاکستانیز جو دنیا بھرکے مختلف ممالک میں روزگار کے سلسلہ میں آباد ہیں اور انہوں نے اپنے بنک اکاونٹس پاکستان میں کھول رکھے ہیں ان اوورسیز پاکستانیوں کو بھی کسی کو میسجز اور کسی کو ای میلز کے ذریعے بتایا گیا کہ آپ کے بنک اکاونٹس کے لئے فنگر پرنٹس چاہیے تاکہ آپ کے بنک اکاونٹس کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے ۔ ورنہ اکاونٹس کو آپ آپریٹ نہیں کر پائینگے اس میں پرابلم یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ فنگر پرنٹس کے لئے آپ کا پاکستان جانا ضروری ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کرونا وباء سے پہلے تو اکثر افراد اپنی اپنی فیملیز کو ملنے کوئ خاندان میں شادی بیاہ یا غمی خوشی کی وجہ سے پاکستان کے ریگولر چکر لگا لیا کرتے تھے مگر جب سے کرونا وباء پھیلی دنیا سمٹ کر رہ گئی پاکستان جانا تو دور کی بات گھروں سے نکلنا دشوار ہو گیا پوری دنیا کے حالات ایسے بدلے کہ اپنے پیاروں کی وفات پہ بھی جانا نصیب نا ہو سکا۔ پوری انسانیت ابھی تک ایسی ہی کیفیت اور حالات سے دوچار ہے دوسرا ہوائ سفر کی پابندیاں اور کرایوں میں اضافے، یہ بھی نہیں پتا کہ بندہ اپنے ملک چلا جائے اور آجکل حالات و واقعات تو گھنٹوں میں بدل رہے ہیں کب کس وقت کونسی سفری پابندیاں لگ جائیں ۔ پردیس سے ہفتوں کے لئے جانے والا بندہ خدانخواستہ مہینوں کے لئے پھنس جائے ۔ خاص کر نوکریوں والے افراد کی نوکریاں داو پہ لگ جاتی ہیں حالات اتنے خراب ہیں کہ پہلے ہی نوکریوں سے کام نا ہونے کی وجہ سے نکالا جا رہا ہے خیر بات ہو رہی تھی بائیو میٹرک سسٹم کی آجکل کی صورتحال کے مطابق اور آمدنیاں کم ہونے کی وجہ سے پاکستان جانا ہی مشکل ہے اوپر سے گورنمنٹ آف پاکستان نے ان اکاونٹس پہ پابندی لگا دی کہ جن اکاونٹس ہولڈرز نے اپنے فنگر پرنٹس ابھی تک متعلقہ برانچز میں نہیں دیئے ان اکاؤنٹس کو بند کر دیا جائے گا ان اکاونٹس میں رقم جمع تو کروائ جاسکتی ہے لیکن نکلوا نہیں سکتے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے اوورسیز پاکستانیوں نے انتھک محنت کر کر کے پاکستان میں کچھ جائدادیں بنائی ہوئی ہیں اور ان کو کرائے وغیرہ پہ چڑھایا ہوا ہے جہاں سے ان کے اکاونٹس میں کرایہ کی مد میں رقوم جمع ہوتی تھی۔ جن کو وہاں اپنی ضروت کے تحت استعمال کر لیا جاتا تھا اپنے رشتہ داروں فیملیز کو اس رقوم سے مدد کر دیا کرتے تھے لیکن اب چونکہ اکاونٹس پہ پابندی لگنے کی وجہ سے رقوم وہاں بلاک ہو گئیں پردیس میں کرونا کی وجہ سے معاشی حالات بھی خراب ہیں اب بندہ جائے تو جائے کہاں گورنمنٹ آف پاکستان کے صاحب اختیار سے اپیل ہے کہ اس مسئلے پہ کوئ نظر ثانی کی جائے اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان میں جب بھی کوئی مشکل آئ بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا آج وہ مشکلات کا شکار ہیں تو ایسے میں اس طرح کی پابندیوں سے مزید ان کی پریشانیوں میں اضافہ نا کیا جائے ۔ ان کو اپنے اکاونٹس میں پڑی رقوم استعمال کرنے کی چھوٹ دی جائے اور مزید وقت دیا جائے بائیو میٹرک سسٹم میں آنے کا یا پاکستان کے قونصل خانوں میں کوئ ایسا سسٹم یا نادرا کے الحاق سے کروا دیں تاکہ اوورسیز پاکستانیز اپنے اپنے شہروں کے قونصل خانوں میں جاکر اس سہولت سے مستفید ہو سکیں ۔ اور وقتی طور پر اس پریشانی سے نجات دلائی جائے ۔ خدارا اس مسئلے پہ توجہ کی سخت ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔
