مقدس پتھر حجر اسود کی زیارت! ہائی کوالٹی تصاویراب آپ کی دسترس میں
حجر اسود اور مقام ابراہیم کی نایاب تصاویر کا اجراء دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے خوش آئند ہے بیلے کونسلر محمد حنیف راجہ
گلاسگو: (محمد حنیف راجہ) سعودی عرب کی حکومت نے مسجد الحرام کے اندر حجر اسود اور مقام ابراہیم کی واضح ترین تصاویر بنا کر پیش کر دیں یہ تصویر مکہ مکرمہ کے ادارہ حرمین شریف کے شعبہ انجینئرنگ اسٹڈیز نے بنائی ہیں ایک ہزار سے زائد یہ تصاویر دنیا بھر کے مسلمان پہلی دفعہ دیکھیں گے ان تصاویر کو فوکس اسٹیک پینوراما ٹیکنیک سے بنایا گیا ہے اور ان کو بنانے میں سا ٹھ گھنٹے لگے ہیں دس سو پچاس ایپس ایس پی فوٹو کو جمع کرکے 49 ہزار میگا پکسل پر یہ نا یا تصاویر بنائی گئی ہیں مسلمانوں کے لئے حجر اسود کی تاریخی اہمیت ہے جبکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی اس کو تکریم کی نظر سے دیکھتے ہیں یہ پتھر خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے پر تقریبا چار فٹ کی بلندی پر نصب ہے اور اس کے ارد گرد چاندی کا چو کٹھا ہے عمرہ اور حج کے وقت خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لئے اس کا چومنا لازمی ہے لیکن بھیڑ کی صورت میں اس کو ہاتھ کے اشارے سے بھی چوماجا سکتا ہے اس کو لازمی طور پر منہ سے چونے والے زائرین ایسے وقت کا انتخاب کرتے ہیں جب وہاں زیادہ سے زیادہ افراد نہ ہو اسلامی روایات کے مطابق یہ پتھر جنت سے اتارا گیا ہے جب حضرت ابراہیم اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو ایک پتھر کم رہ گیا جسے حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے جسے حضرت ابراہیم نے اپنے ہاتھوں سے دیوار کعبہ میں نصب کیا۔
یاد رہے کہ ہجر اسود کی تصویر بھی سعودی حکومت نے پہلی دفعہ شئر کی ہیںتفصیلات کے مطابق انچاس ہزار میگا پکسل کے حامل کیمرے سے لی گئی تصاویر اسکو ڈیولپ کرنے میں پچاس گھنٹوں سے بھی زیادہ عرصہ لگا ہےہجر اسود کو جنت کا پتھر کہا جاتا ہے۔قبل از اسلام خانۂ کعبہ کی تعمیر و مرمت کے دوران حجر اسود کی تنصیب کے معاملے پر عرب قبائل کا ایک دوسرے پر تلواریں سونت لینا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حسن تدبیر سے معاملے کا بہترین حل نکل آنا تاریخ میں واقعۂ تحکیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔واقعہ کچھ ہوں ہے کہ خانۂ کعبہ کی دیواروں کی مرمت کا کام کیا گیا تھا جس میں بیشتر قبائل نے حصہ لیا۔ مرمت کا کام ہو چکا لیکن جب حجر اسود کو نصب کرنے کا وقت آیا تو قبائل میں اختلاف ہوا۔ ہر ایک اس پتھر کو اپنے ہاتھ سے نصب کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس مسئلے نے نازک صورت حال اختیار کرلی۔ اختلافات بڑھے اور ایک بڑی جنگ کے آثار پیدا ہونے لگے تھے کہ یہ تجویز پیش کی گئی کہ جو شخص کل صبح سب سے پہلے حرم میں داخل ہوگا اس کا فیصلہ قبول کر لیا جائے گا۔ دوسرے دن جو شخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہوا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ آپ کو دیکھ کر سب نے پکارا “امین آگیا! اور ان کا فیصلہ ہمیں قبول ہوگا”۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ک حکم مقرر کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر بچھا کر اپنے دست مبارک سے اس پر حجر اسود رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں کو چادر پکڑنے کا حکم دیا۔ اس طرح تمام قبائل کے سرداروں نے چادر پکڑ کر اس جگہ رکھی جہاں یہ مبارک پتھر نصب کرنا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس کو اپنی جگہ پر رکھ دیا۔ اس طرح ایک بڑی لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی اور ہر قبیلے کی خواہش بھی پوری ہو گئی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حسن تدبیر کا نتیجہ تھا۔ اس واقعے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر 35 سال تھی۔
۔۔۔۔۔
