یہ مقدر ہے تو ٹالوں کیسے
شب ظلمت کو اجالوں کیسے
تو بہت دور بسا ہے مجھ میں
میں تجھے خود سے نکالوں کیسے
ہجر میں ٹوٹ رہا ہے یہ بدن
اس امانت کو سنبھالوں کیسے
برف پگھلے کی بتا کیسے تیری
میں تیرا خون ابالوں کیسے
ڈرتا ہوںگر کے بکھر جاؤں گا
خود کو اونچا میں اچھا لوں کیسے
جان تو لے لی ہے اپنی طاہر
خاک اب خود پہ میں ڈالوں کیسے
طاہر بشیر اسکاٹ لینڈ
