غزل
بھرم گواہیاں اپنا دکھ بتا کے
دھوکا کھایا تجھے سب کچھ بتا کے
کہتے ہو اب انتظار نہ کرنا
نشہ چھڑوایا عادی بنا کے
کون اعتبار کرے گا تیرا محبت
جو گیا تو یوں دامن چھڑا کے
تصویر ادھوری چھوڑی مصور نے
غیر معیاری کا بہانہ بنا کے
صحرا سمندر پینے لگے
سراب سے پیاس کو نشانہ بنا کے
نظارے سارے مجھ پہ ہنسنے لگے
قسمیں کھائیں تھی جنہیں گواہ بنا کے
لوٹ آؤ راستے ویراں ہیں
چلے تھے ہم جن پہ قدم ملا کے
تجھے تجھ سے مانگنے آئے گا طاہر
دراعتناوا رکھنا امید کا دیپ جلا کے
طاہر محمود رانا
