قابل فخریاکستانی شخصیات ۔ انٹرویو مسٹر انس سرور سربراہ سکاٹش لیبر پارٹی

قابل فخریاکستانی شخصیات

انٹرویو مسٹر انس سرور سربراہ سکاٹش لیبر پارٹی

انٹرویوپینل

طاہر انعام شیخ
ندیم عظمت
عامر عام
رانا راشد محمود

گزشتہ روز مسٹر انس سرور جو کہ لیبر پارٹی کے سربراہ ہیں ان کے ساتھ ایک نشست ہوئی ان کے ساتھ شام 7 بجے کا وقت طے ہوا تھا اور ہم تقریبا سات بجنے میں پانچ منٹ تک ہوٹل میں پہنچ گئے ہوٹل استقبالیہ پر پہنچے تو انہوں نے انتظار کرنے کا کہا ہم ہوٹل کی لابی میں ایک طرف بیٹھ گئے کیونکہ رمضان کا مہینہ تھا اس لئے چائے اور کافی کا بندوبست ہو نہیں سکتا اس لیے اپنے اپنے فون میں مگن ہوگئے خیر ساڑھے سات بجے کے قریب وہ حسب عادت مسکراتے ہوئے تشریف لائے جب ہم نے بتایا کہ ہم تو سات بجے کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں تو انہوں نے سب سے پہلے تو معذرت کی اور پھر بتایا کہ انہوں نے تو وقت ساڑھے سات بجے کا دیا تھا شائد کوئی مس انڈرسٹینڈنگ ہو گئی انہوں نے دوبارہ معذرت کی اور ہوٹل کی لابی میں ہی ہم بیٹھ گئے کیونکہ کرونا کی وجہ سے حکومتی ایس او پیز کا بھی خیال رکھنا تھا افطاری کا ٹائم پونے نو بجے کا تھا اس لیے ہم نے جلدی جلدی انٹرویو شروع کیا۔
سب سے پہلے تو ان کو ادارہ باخبر یوکے کی طرف سے لیبر پارٹی اسکاٹ لینڈ کا سربراہ بننے کی مبارکباد دی گئی۔ پھر سوالوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

ہمارا پہلا سوال ان کی تعلیم کے متعلق تھا
جس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تعلیم گلاسکو میں ہی حاصل کی ہے وہ ایک اچھے اسٹوڈنٹ تھے انہوں نے گلاسگو یونیورسٹی سے بحثیت ایک ڈینٹسٹ کے تعلیم مکمل کی۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے این ایچ ایس میں بطور ڈینٹسٹ تقریبا پانچ سال کام کیا۔انہوں نے بتایا کہ دوران تعلیم سکول کالج اور یونیورسٹی میں وہ ایک اچھےاور سنجیدہ سٹوڈنٹ تھے۔

ایک سوال پر کہ آپ نے تعلیم تو بحثیت دانتوں کے ڈاکٹر کی لیں لیکن پھر سیاست میں کیوں آگئے، اس پر انہوں نے جواباً بتایا کہ ان کی سیاست میں کوئی خاص دلچسپی تو نہ تھی تھوڑی بہت تھی گھر کے ماحول کی وجہ سے کیوں کہ ان کے والد چوہدری محمد سرور صاحب یہاں کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

معزز قارئین آپ کو یہ بتاتا چلوں کے انس سرور چوہدری محمد سرور کے صاحب زادے ہیں ، جو کہ آج کل پاکستان میں پی ٹی آئی کی طرف سے گورنر پنجاب ہیں، جبکہ چوہدری محمد سرور کی بے شمار خدمات یہاں سکاٹ لینڈ کی سیاست میں اور پاکستان کی سیاست میں بھی بہت زیادہ ہیں۔
انس سرور نے مزید بتایا کہ مجھے یہ پتہ نہ تھا کہ میں الیکشن لڑوں گا اور ممبر بن جاؤں گا انہوں نے کہا کہ میں نے جو ڈینٹسٹ کی تعلیم حاصل کی تھی بس یہی ذہن میں تھا کہ لوگوں کی خدمت کروں گا تو سیاست میں بھی عوام کی خدمت کی جاتی ہے یہ بھی ایک عوامی کام ہے جذبہ دونوں کاموں کا ایک جیسا ہی ہے یعنی کہ عوام کی خدمت کرنا۔انس سرور نے مزید بتایا کہ جیسا کہ سب کو پتہ ہے جب چوہدری محمد سرور صاحب منتخب ہوئے تو کوئی نہ کوئی مخالفت چلتی رہتی تھی اخبارات میں ایشوز اٹھتے رہتے تھے خاندان کو دھمکیاں بھی ملتی رہتی تھیں مشکلات بھی تھی ان سب کو دیکھتے ہوئے میرا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ سیاست میں حصہ لوں گا میری ذاتی رائے تھی کہ میرا سیاست میں جانا فیملی اور بچوں کے لیے اچھا نہیں مگر جب دلچسپی لی اور جو پہلا الیکشن لڑا تھا وہ یوکے پارلیمنٹ کے لیے نہیں تھا وہ اسکاٹش پارلیمنٹ کے لئے تھا 2007 میں امیدوار کے طور پر سلیکٹ ہو گیا۔مگر ان دنوں پارٹی میں ٹیسٹ سسٹم تھا جسکی وجہ سے مجھے ٹکٹ نہیں مل کا اس کے بعد دلچسپی اور بڑی اور میں عملی سیاست میں داخل ہوا۔

آپ کارول ماڈل کون ہے کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ان کے والد چوہدری محمد سرور ان کے لئے رول ماڈل تھے اور ہیں انہوں نے ہمیشہ مجھے ہمت دی وہ ہمیشہ یہی سکھایا کرتے تھے کہ عہدے اور کرسیاں کوئی معانی نہیں رکھتی۔اصل تو عوام کی خدمت ہی کرنا ہوتی ہے وہی سب کچھ ہوتا ہے۔

کیا آپ سیاست میں اپنے والد صاحب کی ہی سب مانتے ہیں یا خود بھی کچھ فیصلے کرتے ہیں کہ اس سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سیاست میں وہ اپنے طور پر فیصلے کرتے ہیں البتہ کبھی کبھی ایک دوسرے سے ڈسکس ضرور کر لیتے ہیں چونکہ وہ پاکستان کی سیاست میں پوری طرح ان ہیں اور میں یہاں کی سیاست میں اس لیے بہت کم وقت ملتا ہے کہ سیاست کے اوپر بات ہو سکے اس لیے سیاست میں میں خود مختار ہوں اس لیے سیاسی فیصلے حالات و واقعات کو دیکھ کر اپنی سمجھ کے مطابق جو ملک و قوم کے لئے بہتر ہو وہی کرتا ہوں۔

پاکستانی سیاست کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا۔ کے انہوں نے نہ کبھی سوچا ہے اور نہ ہی کبھی ارادہ ہو گا کہ پاکستان میں جا کر سیاست کروںیا پاکستان کی سیاست میں حصہ لوں انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پیدائش ،تعلیم یہاں کی ہے اور وہ سیاست بھی اسی ملک میں کرتے ہیں اس لیے میری سیاست بھی یہیں ہوگی۔

کیا ایشین پاکستانی کمیونٹی نے آپ کا ساتھ دیا اور کیا وہ اپنی ایشین کمیونٹی پاکستانی کمیونٹی سے مطمئن ہیں؟ اس سوال کے جواب میں بتایا کہ الحمدللہ وہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ اسکاٹش اور دوسری بھی کمیونٹی جو کہ ان کے حلقہ میں ہے ان سے نہایت مطمئن ہیں اپنی کمیونٹی کی دعائیں اور محبت ان کو ہر وقت حاصل رہی ہیں ہم ان کے سہارے ہی تو چلتے ہیں ساتھ یہ بھی بتایا کہ جب ہم منتخب ہوجاتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے حلقے میں مسلم کمیونٹی ہے جس کی وجہ سے منتخب ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب انہوں نے الیکشن لڑا تھا تو اس وقت میرے حلقے میں مسلم کمیونٹی صرف آٹھ فیصد تھی تو باقی ووٹ دوسری کمیونٹیز کے لوگوں نے ہی دیئے تھے۔

کیا پاکستانیوں کو خاص کر جو ہمارے نوجوان بچے ہیں ان کو یہاں کی سیاست میں حصہ لینا چاہیے ؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جی بالکل ہمارے جتنے بھی نوجوان بچے اور بچیاں ہیں ان کو اپنی تعلیم سب سے پہلے مکمل کرنی چاہیے اور اپنےسامنے ایک منزل کو فوکس کرنا چاہیے کے میں نے کرنا کیا ہے ہمارے نوجوان بچوں کو سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کے حصہ لینا چاہیے کیونکہ سیاست میں بھی ہماری نمائندگی بہت کم ہے خاص کر یہاں کی لوکل سیاست میں اور دوسرا میں تو یہی کہوں گا کہ سیاست کے ساتھ ان کو یہ بھی چاہیے کہ اپنی تعلیم مکمل کریں اور سول سروس کو جائن کریں کیوں کہ گورنمنٹ کے جتنے بھی اپارٹمنٹس ہیں ان میں سول سروس میں ہماری نمائندگی بہت ہی کم ہے اور میں تو یہ بھی کہوں گا کہ ہمارے بچوں کو میڈیا میں بھی آگے آنا چاہیے کیونکہ یہاں اسکاٹ لینڈ میں جتنے بھی بڑے میڈیا کے ادارے ہیں ان میں پاکستانیوں کی نمائندگی آپ کو بہت ہی کم نظر آتی ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں کہیں بھی اپنا پاکستانی اس میدان میں آپ کو یہاں کی جو میڈیا کے چینل سے اخبارات ہے وہاں آپ کو اپنا کوئی پاکستانی نظر نہیں آتا تو میری تو یہی کوشش بھی ہے اور درخواست بھی اپنے نوجوان بچوں سے کہ وہ ان اداروں میں آئیں اپنا ایک مقام بنائیں۔

ایک سوال جو ان سے لیبر پارٹی کے حوالے سے کیا گیا کہ آپ کی مقبولیت تو کافی ہے لیکن لیبر پارٹی کی مقبولیت اسکاٹ لینڈ میں نہیںہے اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں ایک ایماندار انسان ہوں جو بات ہوتی ہے وہی کہتا ہوں کچھ عرصہ پہلے لیبر پارٹی کا گراف تھوڑا نیچے گیا ہوا تھا لیکن اب الحمدللہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر سے بہتر ہوتا جا رہا ہے مزید جو سروے رپورٹس آرہی ہیں ان کے مطابق الحمداللہ پارٹی کی پوزیشن بہت اچھی ہوتی جا رہی ہے انشاءاللہ 6 مئی کو ووٹرز مزید اس کی پوزیشن بہتر بنا دیں گے میری تمام ووٹرز سے تمام افراد سے یہی گزارش ہے کہ آپ دونوں ووٹ لیبر پارٹی کو دیں۔

البا پارٹی کے حوالے سے جب سوال کیا گیا کہ البا پارٹی اب نئی پارٹی ایک بنی ہے جس میں کچھ دوسری پارٹی پی کے کافی سارے اپنے ایشین کمیونٹی کے لوگ اس پارٹی البا میں جوق درجوق شامل ہو رہے ہیں لیکن آپ لیبر پارٹی کے لیڈر بنے ہیں آپ کی مقبولیت میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن لوگ اس طرح لیبر پارٹی میں نہیں آ رہے، انہوں نے اس کے جواب میں بتایا کہ بھی البا پارٹی بنی ہے اس میں تو وہی چہرے ہیں جو ایس این پی میں تھے وہی چہرے اسی میں واپس آرہے ہیں کوئی نیا چہرہ تو نظر نہیں آ رہا آپ خود دیکھ لیں اس میں کوئی اپنا ممبر نہیں بنوا سکے اب بھی اپنی وہ انرجی جو ہے وہ فضول ادھر لگا رہے ہیں وہ بندے جو ادھر تھے وہی ان کے اندر واپس آرہے ہیں وہ یا تو پھر واپس چلے جائیں گے بس ان کا یہی طریقہ ہے یہی بات کرتے ہیں یہ لوگ۔ لیکن جب سے میں آیا ہوں لیبر پارٹی میں تو اس وقت سے لے کر ابھی تک تقریبا آٹھ فیصد گراف بڑھا ہے اس الیکشن میں تو شاید ہم سب کچھ حاصل نہ کر سکیں لیکن انشاءاللہ اپوزیشن میں تو آ جائیں گے اور دوسرا انشاءاللہ مجھے امید ہے کہ اگلے الیکشن میں لیبر پارٹی ایک بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی انہوں نے مزید کہا کہ پہلا ووٹ جو خاص کر سمجھتے رہتے ہیں وہ بھی لیبر کو دیں اور جو دوسرا ووٹ ہے وہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے فیصلہ ہوگا کہ حکومت کون بنائے گا اور اپوزیشن میں کون جائے گا تو وہ لیبر پارٹی کو ضرور دیں۔

اسلامو فوبیا کے حوالے سے جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ اسکاٹ لینڈ میں نسلی تعصب کے حوالے سے کئی واقعات رونما ہو رہے ہیں خاص کر پچھلے دنوں ان کے ساتھ بھی نسلی امتیاز ریمارکس ان کو بھی پاس کیے گئے تو اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ اس بارے میں کافی تگ و دو کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوسری مینارٹی کمیونٹی کے ساتھ بھی اس معاملے کو اٹھایا ہوا ہے سب سے پہلے اسلاموفوبیا پبلک انکوائری ہم نے کی تھی جو میڈیا گائیڈ لائن ہے مسلمانوں اسلاموفوبیا کے بارے میں وہ ہم نے ڈویلپ کی تھی مختلف چینلزکےپریزینٹرزاورکچھ اخبارات کےایڈیٹرزنے سائن اپ کیے تھے کہ ہم مانتے ہیں کہ جو ہم نے پچھلی رپورٹیں کچھ دی تھی وہ امتیازی نہیں تھیں اور ہم آپ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں جو تمام کمیونٹیز کے لئے بہتر ہو دوسرا جو مینارٹیز ہیں ان کو بھی نوکریوں میں ایک مکمل حصہ دیا جائے نوکریوں کی گارنٹی ہو ہر ریجن میں ایک ہیٹ کرائم پولیس آفیسر ہونا چاہیے جس کو پتہ ہو کہ ہیٹ کرائم کیا ہے لوگ آسانی کے ساتھ اگر ان کے ساتھ خدانخواستہ کوئی ہیٹ کرائم ہوتا ہے وہ اس کی رپورٹ کروا سکیں ورنہ ہمارے لوگ تو جاتے ہی نہیں وہ کہتے ہیں رپورٹ کرو ابھی دیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

ایک سوال جو ان سے کیا گیا کہ پچھلے دنوں جو پارٹک کے ایریا میں کونسلر کا الیکشن ہوا وہاں سے لیبر پارٹی کے کونسلر جیت گئی کیا وہ لیبر پارٹی کی مقبولیت ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا ایک تو ہمارا ووٹ اس شہر میں بڑھ رہا ہے لیبر پارٹی کا اور دوسری وجہ تو سچی بات ہے کہ وہ ہماری امیدوار بہت ہی قابل تھی اس لیے وہ سیٹ ہم جیت گئے ۔

لیبر پارٹی کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے آنے والے وقت میں وہ کون سے چیلنجز دیکھ رہے ہیں اس سوال کے جواب میں بتایا تقریبا ڈیڑھ سال سے کرونا وباء پوری دنیا میں پھیلی ہوئ ہے پوری دنیا کی طرح سکاٹ لینڈ کے معاشی حالات بھی خراب ہوئے ہیں کچھ بزنس میں تو بہتری آئی جیسے کوئی لوکل دکان ہو اس کی سیل میں اضافہ ہوا ہے لیکن زیادہ تر مشکلات میں خاص کر معاشی مشکلات میں بہت اضافہ ہوا ہے یہ چیلنجز جو ہیں بہت مشکل ہیں لیکن ان شاء اللہ تعالیٰ لیبرپارٹی اپنے اقتدار میں آکر ان چیلنجز کا سامنا کرے گی ان کے حل کے لئے جو عوام کی بہتری کے لیے ہوں گے اقدامات کرے گی۔انشاءاللہ۔
معزز قارئین وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا اور دوسرا افطاری کا ٹائم ہوا جارہا تھا کرونا کی وجہ سے کیونکہ پابندیاں لگی ہوئی ہیں اس لئے وہاں اکٹھے بیٹھ کے چائے کھانے کی اجازت نہ تھی جس پہ لیبر پارٹی اسکاٹ لینڈ کے سربراہ انس سرور نے دوبارہ معذرت کی ۔ ہم نے اجازت چاہی اور رخصت ہوئے اس وعدہ کے ساتھ کہ دوبارہ انشاءاللہ زیادہ ٹائم کے ساتھ تفصیلی انٹرویو دیا جائے گا وہ ہمیں ہوٹل کے دروازے تک رخصت کرنے آئے ۔
۔۔۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More