یورپی یونین زرعی سبسڈی نظام میں بڑی اصلاح کی جانب گامزن، کسانوں کا برسلز میں احتجاجی مظاہرہ

کمیشن کا منصوبہ CAP کو نئے فنڈنگ فریم ورک میں ضم کرنے کا؛ کسانوں کو آمدنی میں کمی کا خدشہ

برسلز، 14 جولائی 2025 — رپورٹ: یورپ نیوز ڈیسک

یورپی یونین میں زرعی سبسڈی نظام کے حوالے سے ایک انقلابی تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ یورپی کمیشن آئندہ کثیر سالہ بجٹ (2028–2034) میں مشترکہ زرعی پالیسی (CAP) کو ایک نئے فنڈنگ اسٹرکچر میں ضم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس مجوزہ تبدیلی پر کسانوں اور رکن ریاستوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ کسان تنظیمیں بدھ کے روز برسلز میں ایک “علامتی احتجاج” کا اعلان کر چکی ہیں۔ یورپی کمیشن کے ذرائع کے مطابق، CAP کو ایک نئے “قومی و علاقائی شراکت داری فنڈ” میں ضم کیا جائے گا، جس کا مقصد زرعی سبسڈی کو دیگر ترقیاتی فنڈز کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے انتظامی سادگی، شفافیت، اور موسمیاتی اہداف کی تکمیل کو ممکن بنانا ہے۔ CAP اس وقت EU کے کثیر سالہ بجٹ کا سب سے بڑا حصہ ہے، جس میں سے تقریباً €270 ارب براہِ راست کسانوں کو ادا کیے جاتے ہیں۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ CAP بدستور ایک “خصوصی ریگولیشن” کے تحت چلتی رہے گی، جس میں براہِ راست امداد، سرمایہ کاری، چھوٹے فارموں کی معاونت، اور زرعی جدت کے پروگرام شامل ہوں گے۔ یورپ بھر کی کسان تنظیمیں اس منصوبے کو “خطرناک تبدیلی” قرار دے رہی ہیں۔ فرانس، جرمنی، اٹلی اور پولینڈ جیسے زرعی طور پر مضبوط ممالک کے کسانوں کو خدشہ ہے کہ اگر CAP کو دوسرے فنڈز میں ضم کر دیا گیا تو ان کی آمدن، تحفظ اور دیہی ترقی کے مواقع شدید متاثر ہوں گے۔

یورپی پارلیمنٹ میں زرعی امور کے اہم رکن ہربرٹ ڈورفمان نے کہا: “ہم ایک ایسی زرعی پالیسی چاہتے ہیں جو کسانوں کے لیے ہو، یکساں ہو، اور مکمل طور پر یورپی یونین کی فنڈنگ سے چلتی ہو۔”

فرانسیسی وزیر زراعت انی جنیوارڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر CAP کے بجٹ میں کوئی کمی یا تقسیم کی گئی تو فرانس اس کی مخالفت کرے گا۔ انہوں نے برسلز میں اپنے یورپی ہم منصبوں سے ملاقات سے قبل کہا: “ہمیں سب سے زیادہ خطرہ CAP کے بتدریج تحلیل ہونے سے ہے، جو یورپی زرعی خودمختاری کے لیے تباہ کن ہو گا۔” کسان تنظیموں نے بدھ کے روز کمیشن ہیڈکوارٹرز کے سامنے ٹریکٹروں کے ساتھ احتجاج کا اعلان کر دیا ہے تاکہ کمیشن پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

مشترکہ زرعی پالیسی (CAP) 1962 میں متعارف ہوئی تھی تاکہ یورپی کسانوں کو معاشی تحفظ، خوراک کی فراہمی اور دیہی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ CAP اس وقت EU بجٹ کا تقریباً 30% حصہ ہے۔ پچھلے چند سالوں میں سستے درآمدی مال، ماحولیاتی ضوابط، اور مالیاتی دباؤ کے باعث کسانوں نے متعدد بار برسلز میں احتجاج کیا ہے۔

اگر یورپی کمیشن کی یہ تجویز اگلے مہینوں میں یورپی پارلیمان اور 27 رکن ممالک کی منظوری حاصل کر لیتی ہے، تو یہ یورپی زرعی تاریخ کی سب سے بڑی اصلاح ہوگی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید مخالفت، کسانوں کے مظاہرے، اور رکن ممالک کی داخلی سیاست اس منصوبے کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

یورپی کمیشن کے لیے یہ ایک نازک لمحہ ہے جہاں اسے ایک جانب بجٹ کی ہم آہنگی، ماحولیاتی اہداف اور انتظامی اصلاحات کو تیز کرنا ہے، اور دوسری طرف یورپ کے لاکھوں کسانوں کا روزگار، مستقبل اور دیہی معیشت کی بقا بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ آنے والے ہفتے EU کی زرعی پالیسی کے مستقبل کے تعین میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More