گلاسگو کی معروف شاعرہ اور کئی کتابوں کی مصنفہ محترمہ راحت زاہدکا ایک شعری انٹرویو

گلاسگو کی معروف شاعرہ اور کئی کتابوں کی مصنفہ محترمہ راحت زاہدکا ایک شعری انٹرویو

اردو زبان کی تاریخ میں نثر اور نظم کو برابر کی اہمیت حاصل ہے۔اردو زبان کی ادبی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسکاٹ لینڈ میں مقیم معروف شاعر جناب عامر بٹ المعروف عامر عام نے اردو زبان کی معروف ادبی شخصیات کے انٹرویو کا شعری سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ واقعی ایک منفرد کام ہے۔ جس کے لئے تخلیقی صلاحیتوں کا عروج پرہونا بہت ضروری ہے۔ماہانہ باخبر کا ایک انتہائی منفرد سلسلہ، جو جناب عامر عام کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتاثبوت ہے۔ یقیناً قارئین کو یہ سلسلہ پسند آئے گا۔ اپنی رائے ضرور دیجیئے گا۔ شکریہ ادارہ

عامر بٹ @ عامر عام
Amirbutt647@yahoo.co.uk

ماہنامہ باخبر کیلئےکسی ادبی شخصیت کے تعارف و انٹرویو کا معاملہ زیر بحث آیاتو قرعہ میرے نام نکلا تو میری نظر گلاسگو کی معروف شخصیت محترمہ راحت زاھد پر جا ٹھہری جو کہ ادبی حلقوں میں ایک شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں گلاسگو میں انکو چاند سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے تو سوچا کیوں نہ اس چاند سے اپنے اخبار کیلئے کچھ کرنوں کا اہتمام کیا جائے درجنوں سے زائد انٹرویو دینے والی محترمہ کا تعارف کروانے کیلئے میں نے روایتی طریقہ کار کو چھوڑ کر ایک نئے اور اسلوب و پیرائے کو اپنایاانکی حیات ، طبیعت اور حاصلات کو شعروں کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔ کرونا کے جان لیوا وبائی عرصے میں ملاقات سے اجتناب کرتے ہوئے بذریعہ وٹس آپ پر محصول ہونے والی محدود سے معلومات پر گزارہ کرنا پڑا اور ان معلومات کو اشعار کی زبان میں اس تعارف کا حصہ بنایا گیا جسطرح کھانے کے مین کورس میں پہلے اسٹارٹر سے تواضع کی جاتی ہے اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے انکے تعارفی سے پہلے چھوٹے چھوٹے بندوں کے شعری ٹوٹے بھوک کی اشتہا کو بڑھانے کیلئے موجود ہیںمختصر شعری تعارف کو آخر میں نثر یعنی ترجمہ و تشریح کے ساتھ بھی مزین کیا گیا ہےیا یوں سمجھ لیں ان معلومات کی بنیاد پر تعارف کے شعری ڈھانچے کی بنیاد رکھی گئی ہےامید ہے یہ روایت شکن سلسلہ جاری رکھا جائیگاادارہ آرا کا منتظر رہے گا۔

ع عام گلاسگو
۔۔۔۔۔
تفصیلی نہیں کیا ہے انٹرویو ہم نے
جبر کرونا میں طائرانہ سی نظر ڈالی ہے
راحت کے جیون کے کچھ گوشوں پہ
نا چیز نےادبی سی شاعرانہ نظر ڈالی ہے
ع عام گلاسگوشہر
۔۔۔۔۔
کراچی کی چشم و چراغ رہتی نہیں وہاں پہ
زیادہ نہیں باریک سی کر دیتا ہوں وضاحت
کسی اور دیس میں جاکے بسیرا کر لیا اس نے
وطن میں اب کہیں نظر آتی نہیں ہے راحت
ع عام گلاسگو
۔۔۔۔۔
روایت شکن سلسلہ راحت جاں ثابت ہوگا
ممکن ہے یہ نئی روایت کا امکاں ثابت ہوگا
وقت نتائج کا اعلان کردیگا اپنے آپ
یقین کی منزل پائیگا کہ گماں ثابت ہوگا
بھاری پتھر کو چوم کر اٹھانے کا واقعہ
کبھی چھپا نہیں رہے گا عیاں ثابت ہوگا
ع عام گلاسگو
۔۔۔۔۔۔
مصنفہ ادیبہ شاعرہ نام راحت ہے
تمکنت چہرے پہ ہویدا وجاہت ہے
چمنِ طبیعت سے کلیاں چنوں گا
کچھ کچھ گفتگو کروں گا کیا اجازت ہے
زھد کے سائے میں بسر ہوجائے
توازدواجی زندگی اک اک عبادت ہے
سچائی کو زندگی کا نام دیتی ہے راحت
اسے جھوٹ سے سخت عداوت ہے
ناپسندیدگی کا منہ نوچ لیا کرتی ہے
وہ اک خود کار سی بغاوت ہے
کانٹوں کی طرح کھٹکتی ہے انہیں
دلِ دشمناں میں اگر گراوٹ ہے
زباں کے شیرے سے لطف لیتے ہیں
ہو اگر حلقہ یاراں تو وہ حلاوت ہے
جو اسے منافقوں سے دور رکھتی ہے
اس کے مزاج میں کوئی رکاوٹ ہے
دوستی دوستوں سے دشمنوں سے دشمنی
اس کے یہاں تو یہی کہاوت ہے
ع عام گلاسگو
۔۔۔۔۔
اسٹارٹر ختم مین میل شروع
آئیے انٹرویو و تعارف شروع کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
شعری تعارف
دیارِ غیر میں کررہی ہے نام اونچا وطن کا
پروان چڑھا کے کام وہ شعرو سخن کا
کئی کتابوں کی مصنف بن گئی ہے شاعر ہ
پھیلا ہے ممالک میں اسکے فن و ہنر کا دائرہ
انکی شہرت پہ ہم علی اعلانی کہہ سکتے ہیں
شخصیت ان کو بین الاقوامی کہہ سکتے ہیں
چار دھائیوں سے گرچہ وطن سے دور ہیں
وہ مان ہیں اب بھی وطن کا غرور ہیں
صدائے ایشیا کا اخبار بھی نکالا انہوں نے
خوشی سے خود کو اس شعبے میں ڈالا انہوں نے
کوئی شعبہ نہیں چھوڑا یہ حشر آسمانی بھی کی ہے
وہ براڈ کاسٹر رہی ہیں یہ مہربانی بھی کی ہے
دلکش جاذب نظر اور کچھ خوبرو ہوتے ہیں
آ جائیں اپنے مہمان کے روبرو ہوتے ہیں
گفتگو کھل کر کریں گی یا پھر اشارے میں
محترمہ سے باتیں کریں گے انکے بارے میں
اپنی شائع شدہ کتابوں کی بابت بتایا انہوں نے
کچھ اس میں سے پڑھ کر بھی سنایا انہوں نے
تین کتابوں میں ایک کا نام اداس گلیاں ہیں
یہ خوش رنگ ، خوشبو پھیلاتی ہوئی کلیاں ہیں
اپنے دل کی نگری میں یہ رکھتی ہیں رھائش
پڑھنے کے قابل تنصیف ہے یہ قابلِ ستائش
ابھی ٹھہرو ،بہت کچھ کہنا ابھی باقی پڑا ہے
مہ ہے ، پیمانہ بھی ہے اور ساقی کھڑا ہے
ابھی اک تہلکہ تکمیل کے مراحل سے دور ہے
دلِ دریا میں ہنگامہ ہے جو ساحل سے دور ہے
رابرٹ برن کی نظموں سے وہ بھر رہی ہیںڈائری
اردو زبان میں لکھیں گی وہ انگریزی کی شاعری
عظیم شاعر کی شاعری سے ہم راز ہوگئی ہیں وہ
بطور واحد اردو شاعرہ صاحب اعزاز ہوگئی ہیں وہ
انٹر نیشنل مشاعروں میں شرکت وطیرہ ہے
گلاسگو شہر کے روشن چاند کا دل ہیرا ہے
امریکہ ،فرانس ،اسپین، ڈنمارک ہو یا دوبئی
سفر کر چکی ہیں ان ممالک کے علاوہ بھی
کئیتیس سالوں پہ محیط ہے شاعرہ کا ادبی سفر
جنم بھومی ہے انکی شہر کراچی کا اک گھر
ہجرت کا دورانیہ چار دھائیوں سے محیط ہے
عذاب ہے ، یہ یاد ماضی ہے عفریت ہے
کارصحافت میں پہلا حصہ ڈالا تھا تب انہوں نے
صدائے ایشیا کے نام سے اخبار نکالا تھا انہوں نے
وینس ڈی ایم ٹی وی مارننگ شو، شخصیات
محترمہ کیلئے ہے یہ اب اک عام سی بات
آواز ایف ایم ریڈیو پہ پروگراموں کا سلسلہ
ابھی تک چل رہا ہے یہ ختم نہیں ہوا
میم کے ساتھ انکاگزرا تھا اک زمانہ
پروڈیوس جب کیا تھا لوٹ آؤ کا ڈرامہ
لیجنڈ اداکارو ہدایتکارہ شمیم آراکو سلام
یہ ڈرامہ تھا ان کا پہلا اور آخری کام
اگلی صفوں میں رہنے کا حوصلہ و لیاقت ہے
ادارہ بزم و نغمہ کی چیئر پرسن راحت ہے
بطور چئیرپرسن ویمن ونگ وہ کافی فعال ہے
اسکاٹ پاک کا سیکرٹری رہنا کمال ہے
حقدار کو اسکا حق عزت سے ملنا ہی چائییے
مل کے سبھی خاص و عام پیش کرتے ہیں
نہ انکو چائیے اور نہ ہی سلیقہ ہے یہ ادب میں
وہ صاحب کلام ہیں ہم کلام پیش کرتے ہیں
انکی ہمت و محنت کو ہم سلام پیش کرتے ہیں
ایوارڈز انکا حق ہے جو اپنا کام پیش کرتے ہیں
نیچے اس شعری تعارف کا
ترجمہ وتشریح حاضر ہے۔

راحت زاہد ایک معروف شاعرہ، کئی کتابوں کی مصنف، ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیت ہیں۔ گذشتہ چار دہائیوں سے بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنی ادبی سرگرمیوں کےذریعے وطن عزیز کا نام رو شن کر رہی ہیں۔راحت زاہد نے “صدائے ایشاء” کے نام سے اخبار بھی نکالا ۔ اس کے علاوہ براڈ کاسٹر بھی رہیں اور ٹی وی چینل پر بطور میزبان بھی کام کر رہی ہیں۔ راحت زاہد ڈرامہ نگار بھی ہیں۔ ان کی شاعری کی تین کتابیں “اداس گلیوں میں”، “دل کی نگری میں” اور “ابھی ٹھہرو” ماورا پبلیکیشنز لاہور کے تحت شائع ہو چکی ہیں۔ اورچوتھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ جو اسکاٹ لینڈ کے مشہور قومی شاعر رابرٹ برنس کی نظموں کے اردو ترجمے پر مشتمل ہے۔ اور وہ اردو زبان کی واحد شاعرہ ہیں جنہوں نے رابرٹ برنس کی شاعری کو اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل برنس کی شاعری کا 42 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ مگر اردو میں اس کا ترجمہ نہیں ہو سکا تھا۔محترمہ راحت زاہد بے شمار انٹرنیشنل مشاعروں میں شرکت کر چکی ہیں۔ جن میں امریکہ، فرانس، اسپین، ڈنمارک، ناروے، دبئی وغیرہ شامل ہیں۔ان کا اسکاٹ لینڈ میں ادبی سفر کم و بیش 3 دہائیوں پر مشتمل ہے۔ ان کا تعلق کراچی کے ایک معروف ادب گھرانے سے ہے۔ وہ 1980 میں کراچی سے گلاسگو آئیں۔ اور یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے 1992 میں اسکاٹ کا سب سے پہلا اردو اخبار “صدائے ایشیاء”کے نام سے شروع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ براڈ کاسٹر اور ٹی وی ہوسٹ بھی ہیں۔ وینس اور ڈی ایم ٹی وی پر مارننگ شوز اور بے شمار مشہور شخصیات کے انٹرویوز اور مشاعروں کا اہتمام کر چکی ہیں۔ آواز ایف ایم گلاسگو پر پچھلے بیس سال سے ادبی اور دیگر پروگرام کر رہی ہیں۔ ایک ٹی وی ڈرامہ سیریل “لوٹ آؤ” کی بھی پروڈیوسر رہی ہیں۔جس کی ڈائریکٹر پاکستان کی لیجنڈ آرٹسٹ میڈم شمیم آراء تھیں۔ جن کی وہ پہلی اور آخری ڈرامہ سیریل تھی۔ بزم شعر و نغمہ گلاسگو کی چیئرپرسن ہیں۔جبکہ اسکاٹش پاکستانی ایسو سی ایشن کی جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔پاکستان پریس کلب اسکاٹ لینڈ کی ویمن ونگ کی چیئرپرسن ہیں۔ محترمہ راحت زاہد یوکے اور دنیا کے مختلف ممالک سے کمیونٹی اچیو منٹ اور ادبی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ اور گلاسگو میں وطن عزیز پاکستان کی عرصہ کم و بیش 22 سال سے نمائندگی کر رہی ہیں۔عامر عام

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More