محترمہ راحت زاہد کی شاعری کی ایک جھلک

غزل
اک پیکرافکار ہوں ، اور کچھ بھی نہیں ہوں
میں صاحب کردار ہوں ، اور کچھ بھی نہیں ہوں
عورت ہوں مگر مرد سے کمتر بھی نہ جانو
میں نائو کی پتوار ہوں ، اور کچھ بھی نہیں ہوں
اجداد کی شفقت و رفاقت میں پلی ہوں
شیریں دم گفتار ہوں ، اور کچھ بھی نہیں ہوں
پہچانو مرے جذبوں کی سچائ سے مجھ کو
سرتاپا وفادار ہوں ، اور کچھ بھی نہیں ہوں
یہ روشنی مجھ کو میرے مولا کی عطا ہے
اک ذرہء انوار ہوں ، اور کچھ بھی نہیں ہوں
خود دیں گے گواہی مرے اشعار یہ اک دن
میں _ان کی علمدار ہوں ، اور کچھ بھی نہیں ہوں
کرتی ہوں تکبر کے خدائوں سے میں نفرت
راحت کی طلب گار ہوں ، اور کچھ بھی نہیں ہوں
راحت زاہد
۔۔۔۔۔۔
نظم
ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا
ابھی تو وقت کے ہاتھوں سے کچھ لمحے چرانے ہیں
ابھی کچھ زخم تازہ ہیں جو اشکوں سے بہانے ہیں
بہت سی باتیں کرنی ہیں بہت سے دکھ سنانے ہیں
ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا
ابھی تو بادلوں کی چھائوں میں کچھ دیر بیٹھیں گے
فضائوں میں رچی یہ خوشبوئیں سانسوں میں کھینچیں گے
بنانے ہیں ابھی کچھ دائرے ندیا کے پانی میں
پھر ان ہی دائروں میں یاد کے دیپک جلانے ہیں
نئے کچھ شعر لکھے ہیں ترنم سے سنانے ہیں
ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا
بدلتے موسموں کی رت مجھے اچھی نہیں لگتی
ہرے پتوں کی پیلاہٹ مجھے اچھی نہیں لگتی
کہ پت جھڑ کی ہوائوں سے مجھے وحشت سی ہوتی ہے
بہاروں سے یہ کہنا ہے ابھی کچھ دیر تو ٹھہریں
ابھی ان شوخ کلیوں کو ذرا کچھ اور مہکائیں
خزاں آئ تو جسم و جان کو بےجان کردے گی
اداسی خوف بن کر روح کو ویران کردے گی
سنو رک جائو کچھ دیر اور مجھ کو شاد رہنا ہے
مجھے بھی زندگی کی چاہ میں آباد رہنا ہے
ابھی ٹھہرو کہ رخصت ہونے کا لمحہ نہیں آیا
راحت زاہد
۔۔۔۔۔

غزل
اندازگفتگو کا قرینہ نہ بھولئے
علم و ادب کا ہے یہ خزینہ نہ بھولئے
اوصاف مصطفی کی جو تقلید ہو اگر
پھر زندگی کو شان سے جینا نہ بھولئے
ہر سانس عارضی ہے ، نہیں موت سے مگر
ہر نفس کو یہ زہر ہے پینا نہ بھولئے
موجوں کی سرکشی سے جو ہوں آشنائیاں
طوفاں سے بچ رہے گا سفینہ نہ بھولئے
گوہرشناس نظروں سے جوہر کو ڈھونڈئیے
ملتا ہے پتھروں میں نگینہ نہ بھولئے
اس دہر میں ہو راحت ہستی کی گر طلب
ہے درگزر ہی اولیں ذینہ نہ بھولئے
راحت زاہد
۔۔۔۔۔
غزل
زندگی درد کا عنوان نہ بننے دینا
زخم سہنا اسے سرطان نہ بننے دینا
گو ہے دشوار بشر کے لیے انساں ہونا
نفس کو مسکن شیطان نہ بننے دینا
ضبط لازم ہے ہر اک گام پہ جذبوں کے لیے
موج کو بحر میں طوفان نہ بننے دینا
نام مٹ جاتے ہیں دولت کے تکبر میں
کبھی زر کو اپنے لیے پہچان نہ بننے دینا
باوفا لوگوں سے راحت کی توقع رکھنا
دل میں ہرجائ کو مہمان نہ بننے دینا
راحت زاہد
۔۔۔۔۔
غزل اس طرح درد کو سینے میں چھپایا جائے
آنکھ روئے بھی تو آنسو نہ بہایا جائے
کون سنتا ہے یہاں غم کے فسانے اے دوست
لب پہ آہیں ہوں مگر جگ کو ہنسایا جائے
ہر دعا رکھتی ہے تاثیر مسیحائ کی
ہاتھ لازم ہے سلیقے سے اٹھایا جائے
کیوں نہ طوفان اٹھیں ایسی فضائوں میں
جہاں طفل کے ہاتھ میں بارود تھمایا جائے
کوئ کہدے تو ذرا وقت کے شیطانوں سے
ظلم انسان پہ اب اور نہ ڈھایا جائے
ہم تلاطم میں بھی پا لیتے ہیں اکثر راحت
بے ضرر موجوں سے ہم کو نہ ڈرایا جائے
راحت زاہد
۔۔۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More