اداریہ ۔ تحریر: ندیم عظمت
معزز قارئین آج کل اسکاٹ لینڈ میں مقامی الیکشن ہو رہے ہیں یہاں پہ الیکشن لڑنے والے سیاستدانوں کا الیکشن کمپین چلانے کا طریقہ کار اور اپنے ملک میں الیکشن کی کمپین چلانے کے طریقہ کار میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ یہاں سیاست کو جمہوری طریقے سے چلایا جاتا ہے اور پاکستان میں جمہوریت کو سیاسی طور طریقوں سے چلایا جاتا ہے ۔قارئین سیاست کا لفظ ذہن میں آتے ہی ایسے لگتا ہے کہ جیسے الیکشن ہونے لگے ہیں اور جب الیکشن کا ذہن میں آتا ہے تو بندے کو اپنے ملک کی سیاست یاد آنے لگتی ہے اپنے ملک کا الیکشن یاد آنے لگتا ہے جہاں ایک سیاسی پارٹی کا لیڈر دوسری سیاسی پارٹی کے لیڈر کے کردار پر گند اچھالنے لگتا ہے ایک امیدوار دوسرے امیدوار پے وہ کیچڑ اچھالتے ہیں ایک دوسرے کی عزت تک کا خیال نہیں رکھتے بیچ چوراہے سے لے کر ٹی وی کے ٹاک شو تک وہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں کہ اللہ کی پناہ ان کے پروگرامز دیکھتے ہوئے بھی انسان کو شرم آنے لگ جاتی ہے کہ ہم کن لوگوں کو اپنا نمائندہ چن رہے ہیں جو کہ انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں اتنا کچھ سننے سنانے کے باوجود بعض اوقات پھر دوبارہ انہیں لوگوں کو جب ہم آپس میں ملتا جلتا دیکھتے ہیں اکٹھے بیٹھے پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفے ٹیریا میں چائے یا کافی پی رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ہاتھوں پہ ہاتھ مار کے قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں تو حیرانگی ہوتی ہے ان پر بھی اور اپنے آپ پر بھی . ان سیاسی لوگوں پر اس لیے کہ یہ کیسے بے ضمیر سیاسی لوگ ہیں جو ہمارے سامنے تو آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں ایک دوسرے کی ماں بہن ایک کر دیتے ہیں اور خاص کر الیکشن والے دن جب تک کہ دو چار بندے نا مر جائیں تو ہمارے ملکوں کی سیاست مکمل ہی نہیں ہوتی جن سیاستدانوں کی خاطر عوام آپس میں دست و گریباں ہوتی ہے وہ نجی محفلوں میں تو ایک دوسرے کے ساتھ ہر قسم کی دعوت, پارٹیاں عیاشیاں اکٹھے کر رہے ہوتے ہیں ایک ہم لوگ ہیں کہ ان سیاسی پنڈتوں کے کردار سامنے دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی ہم ان کے سامنے, ان کے آگے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں دھمال ڈال رہے ہوتے ہیں ہمیں پتا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں لیکن پھر بھی شاید ہماری کچھ مجبوریاں ہیں کوئی ذات برادری کے چکر میں تو کوئی بھوک افلاس تو کوئی اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر ان کے آگے پیچھے چکر لگا رہا ہوتا ہے اور یہ سیاسی لوگ پھر وہی سیاست کا ڈرامہ رچا رہے ہوتے ہیں ۔ عوام بچاری کٹھ پتلیوں کی طرح ان کے آگے ناچ رہی ہوتی ہے یہ تو ہوئی سیاست ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کی۔ دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک میں سیاست کرنے کے طریقے ہی عجیب ہیں چپ کر کے خاموشی سے پیار محبت سے اپنی اپنی الیکشن کمپین چلاتے ہیں زیادہ تر اپنا اپنا منشور لوگوں کے گھروں تک پہنچاتے ہیں ان سیاسی جماعتوں کے نا تو قائدین آپس میں لڑتے جھگڑتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی ان کے ورکرز گلیوں سڑکوں پہ آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں الیکشن والے دن بھی جب ووٹ ڈالنے جائیں تو کوئی خاص پتا نہیں چلتا کہ آج الیکشن ہو رہا ہے یا کیا ہے بڑے پرسکون طریقے سے اپنے اپنے ووٹ لوگ اس وقت کاسٹ کرتے ہیں جب ان کو ٹائم ملتا ہے ووٹ کاسٹ کر کے آ جاتے ہیں نہ کوئی فائرنگ کرتا ہے نہ کوئی بندہ زخمی ہوتا ہے نہ کوئی سیاسی ورکر مرتا ہے نا کوئی ڈھول بجائے جاتے ہیں نہ کوئی شور وغل ہوتا ہے بڑا پھیکا سا الیکشن لگتا ہے اگر آپ موازنہ کریں اس کو اپنے ملک پاکستان کے ساتھ . جب ایک پارٹی الیکشن جیت جاتی ہے تو دوسری پارٹی کے قائدین اس کو جیتنے کی مبارک باد دیتے ہیں کوئی دھاندلی دھاندلی کا شور نہیں مچاتا کوئی کسی ادارے پر الزام نہیں لگاتا جیتنے والے ملک کی ترقی اور اپنے آنے والے منصوبوں پے کام شروع کر دیتے ہیں اور ہارنے والی جماعت اپنی الیکشن میں ہونے والی کوتاہیوں پہ کام شروع کر دیتی ہے آئندہ الیکشن جیتنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو مزید بہتر بناتی ہے اپنی کوتاہیاں دور کرنے کی کوشش میں لگ جاتی ہے یوں معیشت کی ترقی کا پہیہ پھر سے چلنے لگ جاتا ہے اس کو کہتے ہیں جمہوریت .
مدیراداریہ