جہاں لفظ ماں آیا سمجھ لو وہاں ادب کا مقام آیا۔ ماں کو عربی زبان میں اُم کہتے ہیں اُم قرآن مجید میں چوراسی مرتبہ آیا ہے اس کی جمع امھات ہے یہ لفظ قرآن مجید میں گیارہ مرتبہ آیا ہے ۔بچے کی آواز سے مشتق ہے جب وہ بولنا شروع کرتا ہے تو آغاز میں اُم اُم وغیرہ کہتا ہے اس سے اس کے اوّلین معنی ماں کے ہوں گے ۔ الله کریم قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ تمھارے رب نے فیصلہ کر دیا (فرض کر دیا ہے) کہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آوُ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمھارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور تم ان دونوں سے نرمی اور شفقت سے بات کیا کرو۔چونکہ ہم حضور اکرم صلی الله علیٰ وسلم کے امتی ہیں اور اسلام ہی ہمارا مکمل مذہب ہے اس لئے ماں دنیا کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے ۔پچھلے دنوں پوری دنیا میں مدر ڈے (ماں کا دن ) منایا گیا۔ جس کی سوشل میڈیا پہ بہت زوروشور سے نمائش کی گئی ۔ ایک دوسرے کو مبارک باد دی گئی ۔معزز قارئین جانے ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں ۔ جن ماں باپ کی ہمیں روزانہ خدمت کرنی چاہیئے ایک پل بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں کرنا چاہیے، آج ہم مغربی تہذیب میں کھو کر اس کے رنگ میں رنگ کر انہیں کے طریقوں کو اپناتے ہوئے سال میں ایک بار ماں کا دن منانا شروع کر دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر دن ماں کا دن ہونا چاہیے افسوس تو اس بات کا ہے کہ آج پاکستان جیسے مسلم ملک میں بھی اولڈ ہومز بن گئے ہیں جہاں بدنصیب لوگ اپنے والدین اپنی جنت کو بوجھ سمجھ کر چھوڑ آتے ہیں دنیا کی عارضی خوشیوں، اولاد اور دولت کی چکا چوند میں اپنے آپ کو گم کر لیتے ہیں سٹیٹس گو کے چکر میں اپنی دنیا اور آخرت دونوں گنوا بیٹھتے ہیں دولت شہرت تو خوب کماتے ہیں مگر ان کے گھروں میں سے برکت اٹھ جاتی ہے ہوش تب آتی ہے جب ان کی اپنی اولادیں وہی تاریخ دہراتی ہیں تب مگر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔بڑھاپے میں انسان کو تو نہ کھانے کی لالچ ہوتی ہے نا ہی اچھے لباس کی اس کو کیا چاہئیے ہوتا ہے اپنی اولاد کے منہ سے نکلے ہوئے صرف دو میٹھے بول ۔معزز قارئین بحثیت مسلمان ہمیں اس طرح کی برائیوں سے بچنا چاہیئے وہ والدین جو اپنی ہر خوشی اولاد پہ قربان کر دیتے ہیں بڑھاپے میں ان کا سہارا بننا چاہیے جس طرح انہوں نے بچپنے سے لے کر جوانی تک ہماری دیکھ بھال کی ہوتی ہے ہمیں بھی ان کی اس سے بڑھ کر خدمت کرنی چاہیئے اپنی موجودہ زندگی اور آخرت نیک بنانی چاہئے ۔الله کریم ہم سب کو توفیق دے کہ ہم رہتی زندگی تک اپنے والدین ، اپنے بڑوں کی خدمت کرتے رہیں اور ان مغربی روایات سے بچیں۔ آمین