غزل
عالمِ یاس میں سفر چپ چاپ
کٹ رہا ہے ڈگر ڈگر چپ چاپ
تذکرہ اُس کی کج ادائی کا
کرتا رہتا ہے دل مگر چپ چاپ
خواب اُس نے دکھا تو رکھا ہے
میں ہوں تعبیر سوچ کر چپ چاپ
اُس کے ہاتھوں کے لمس کی خاطر
گھوم جاتا ہوں چاک پر چپ چاپ
ایک اندھے کو مل گئی منزل
ہیں کھڑے سارے دیدہ ور چپ چاپ
کچھ گماں مل کے کر گئے مسمارآج
میرے یقیں کا گھر چپ چاپ
ذہن خالی ہے ، میں سرِ محفل
دیکھتا ہوں اِدھر اُدھر چپ چاپ
روز ہی اُس کی یاد کا تکیہ
بھیگ جاتا ہے زیرِ سر چپ چاپ
قائم اُس کا بھرم رہے یاسر
رہ گیا میں یہ سوچ کر چپ چاپ
(یاسر بخاری)
۔۔۔۔۔
