غزل
بہتر نہیں ہوں ناں سہی، بدتر نہیں ہوں میں
ٹھوکر مجھے نہ مارئیے پتھر نہیں ہوں میں
رکھتا ہوں میں مزاج سکندر سا دوستو
یہ بات اور ہے کہ سکندر نہیں ہوں میں
کچھ بات ہے حریف ملاتا نہیں نظر
قد میں اگرچہ اُس کے برابر نہی ہوں میں
گھر پر نہی بلاتے چلو ٹھیک ہے مگر
کیا اب تمہارے دل کے بھی اندر نہیں ہوں میں
محبوب ہے تجھے بھی رقیبوں کی انجمن
تجھ بے وفا کا یعنی مقدر نہیں ہوں میں
سچ بولنے کی جو کبھی ہمت نہ کر سکے
واللہ اس مزاج کا اظہر نہیں ہوں میں
محمد اظہر گلاسگو
۔۔۔۔۔۔
