گوشہ ادب ۔ شاعرہ فرح ملک

ایک نظم آپ سب کی نذر
حسیں رنگوں کی دنیا میں
اسی یادوں کی بگھیا میں
کہ اک انہونی خواہش کو
صرف ثابت قدم رہ کر
اسے تکمیل دینا تھی
مگر تکمیل خواہش میں
ہزاروں دشت راہوں میں
بنے زنجیر پاؤں کی
کوئی آواز اپنوں کی
اسے بڑھنے سے روکے تھی
کہ اک مسکاتے گل جیسی
اسی انہونی خواہش میں
مکمل رنگ بھرنے کو
اسے آتش میں جلنا تھا
انہی انجان قدموں کی
انوکھی ہلکی چاپوں میں
سراب زندگی بھی تھی
جسے وہ جانتی بھی تھی
یہ وہ انجان راہی تھا
دوبارہ در پہ آیا تھا
یہ کیسی اس کی خواہش تھی
کہ اجڑی دل کی نگری کو
اسے آباد کرنا تھا
دوبارہ شاد کرنا تھا
قسم کھا کر اسی جاں کی
نگر آباد کرنا تھا
ذرا سی دیر کو وہ
سوچوں میں رہی گم صم
اٹھایا سر کہا اس نے
کہ اے بھٹکے ہوۓ راہی
محبت کی چھپی
خوابیدہ تاروں کو
تم مت چھیڑو
دوبارہ سر نہیں لگتے
دوبارہ گھر نہیں بنتے
شاعر۔ فرح ملک

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More